ایک اپنے بچوں کے پاس ملک سے باہر گئیں اور پھر واپس نہیں آئیں نہ ہی بچوں نے بھیجا، بقول ان کے وہ نہیں آنا چاہتیں۔
دوسری لاہور میں ملازمت کرتے اپنے بیٹے بہو کے پاس چلی گئ ہیں وہ بھی نہیں آنا چاہتیں۔
تیسری اندرون سندھ اپنے والد کی زمین سنبھالنے کا بہانہ بنا کر وہیں رہ رہی ہیں دو عدد شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ۔ ان کا بیٹا نہیں ہے۔
چوتھی شہر کراچی میں ہی ہیں لیکن اپنے شادی شدہ بیٹے کے گھر دوسرا بیٹا و بہو والد کے ساتھ رہتے ہیں۔
ان سب کی شادیوں کو تقریبا پینتیس چالیس سال گزر چکے ہیں۔
ان چاروں کو میں نے بچپن سے دیکھا، خوشحال گھرانے، ذاتی گھر، سہولیات اور ملنا جلنا، سیاحت، دعوتیں، بچوں کی شادیوں پر دھوم دھام۔ انکلز اپنے اپنے شعبہ جات کے ماہر افراد رہے ہیں لیکن بڑھاپے میں علاحدگی کی وجوہات کیا رہی ہیں یہ تو جوڑے ہی بتا سکتے ہیں۔ فدویہ نے بھرپور کوشش کی کہ راز اگلوائے، نتیجے میں ایک ہی بات مختلف پیرائے میں سننے کو ملی۔ وہ یہ تھی " بس ساری زندگی برداشت کر لیا، جو سہولیات ملیں، ان کا خراج بھی دے دیا، اب اکیلے رہنا ہے، سکون سے ذاتی عبادت کرنی ہے اور اپنی پسند کے ڈرامے دیکھنے ہیں۔
نہ جانے یہ سب کیوں لکھ رہی ہوں، شاید اسلئے کہ گزشتہ شام یہ اطلاع ملی کہ پڑوس میں رہنے والے ایک اچھے انکل۔ جنہوں نے الیکشن میں حصہ لینے پر بہت حوصلہ افزائی کی تھی، میرے ساتھ بھاگ دوڑ کی تھی، ان کی بیگم بھی بیٹی کے پاس لندن گئ ہوئی تھیں اور اب واپس نہ آنے کا اعلان کر رہی ہیں کہ میرا دل لگ گیا ہے۔ میں نہیں آ رہی۔ ویزہ نہ جانے کیا کیا جتن کر کے بڑھوا لیا ہے۔
اٹھہتر برس کے انکل اس وقت کرائے داروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اور ابو نے کل ان کے لئے بھابھی سے نرم چپاتی بنوائی کہ ہوٹل کی روٹی مصنوعی دانتوں سے چبانے میں مشکل ہوتی ہے۔۔۔
انسان بہت عجیب ہیں، اتنے عجیب کہ تعلقات نبھاتے نبھاتے بھی بے زار ہو جاتے ہیں اور بچے وہ سب " ماں " کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ماں چاہے باپ کے خلاف کچھ بھی نہ بتائے، لیکن اولاد بالغ ہونے پر نوٹس کرتی رہتی ہے، والد اکثر کچھ بھی محسوس نہیں کرتے۔۔ اور نتیجہ شاید یہی ہوتا ہے۔۔۔ اردگرد افسوس اور دکھ کا پہرا ہے۔
