وہ صحابی جس کے نام سے رومن ایمپائر کانپتی تھی۔۔۔
آنکھیں بند کیجیے اور ساتویں صدی عیسوی کے ایک خوفناک میدانِ جنگ کا تصور کیجیے۔
ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور رومن ایمپائر کی فوج کھڑی ہے۔ ان کے فوجی سر سے لے کر پاؤں تک لوہے کی بھاری زرہوں (Armors) میں ڈھکے ہوئے ہیں۔ اور ان کے سامنے مسلمانوں کا ایک لشکر ہے...
اچانک مسلمانوں کی صفوں میں سے ایک جنگجو باہر نکلتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ رومن فوج لوہے میں قید ہے، تو وہ ایک ایسا کام کرتا ہے جس نے رومن فوج کے ہوش اڑا دیے۔ وہ میدانِ جنگ کے بیچوں بیچ، دشمن کی آنکھوں کے سامنے اپنی زرہ اتار دیتا ہے پھر اپنی قمیض بھی اتار کر پھینک دیتا ہے، اور برہنہ سینے کے ساتھ ہاتھ میں تلوار لیے اکیلا ہی رومیوں کی صفوں میں گھس جاتا ہے.....
رومی فوجی یہ منظر دیکھ کر دہشت زدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے کمانڈر چیخنے لگتے ہیں کہ یہ کوئی انسان نہیں یہ کوئی ننگا شیطان ہے جو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
تاریخ کے اس سب سے نڈر اور حیرت انگیز کمانڈو کا نام تھا حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ۔...
آپ کو لگتا ہو گا کہ شاید حضرت ضرار ؓ شروع سے ہی کوئی بہت غریب انسان ہوں گے جن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا، اس لیے وہ اتنی بے جگری سے لڑ رہےتھے۔ لیکن گراؤنڈ رئیلٹی اس کے بالکل برعکس ہے۔۔۔
اسلام لانے سے پہلے حضرت ضرار بن ازور ؓ ایک بہت بڑے رئیس تھے۔ ان کے پاس ہزاروں اونٹ تھے جو آج کے دور میں اربوں روپے کی مالیت بنتی ہے۔۔۔ He was a billionaire...
جب وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، تو انہوں نے اپنی ساری دولت اور جائیداد چھوڑ دی۔ انہوں نے ایک شعر پڑھا جس کا مطلب تھا
یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اپنی ساری دولت، اہل و عیال اور جائیداد چھوڑ دی ہے تاکہ مجھے اللہ اور اس کے رسول ﷺ مل جائیں
رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ
اے ضرار! تمہارا یہ سودا کبھی گھاٹے میں نہیں جائے گا
اور واقعی تاریخ گواہ ہے کہ یہ سودا کتنا نفع بخش ثابت ہوا۔
شام کی فتوحات کے دوران مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید ؓ تھے۔ ان کا دماغ ایک Military Genius کا تھا۔ انہوں نے ایک خاصElite Force بنا رکھی تھی جسے طلیعہ کہا جاتا تھا۔
یہ وہ تیز ترین گھڑ سوار دستہ تھا جو دشمن پر بجلی بن کر گرتا اور ان کی صفیں چیر کر واپس آ جاتا۔
اس اسپیشل فورس کا سب سے اہم ہتھیار اور اسٹرائیکر کون تھا؟
حضرت ضرار بن ازور ؓ
حضرت خالد بن ولید ؓ انہیں ہمیشہ ناممکن اور خودکش مشنز پر بھیجا کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ضرار ؓ کے ڈکشنری میں خوف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
جیسے کے تحریر کے آغاز میں ذکر ہوا ۔۔۔
جنگِ اجنادین کا میدان تھا۔ رومن فوج کی تعداد 90 ہزار سے 1 لاکھ کے قریب تھی اور وہ سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق تھے۔ مسلمانوں کی تعداد محض 30 ہزار کے لگ بھگ تھی۔
حضرت ضرار ؓ جب میدان میں اترے تو انہوں نے لوہے کی زرہ پہن رکھی تھی، لیکن لڑتے لڑتے انہیں گرمی لگنے لگی اور زرہ کی وجہ سے ان کیMovement میں رکاوٹ آ رہی تھی۔ تب انہوں نے جنگی تاریخ کا وہ ماسٹر اسٹروک کھیلا جسے آج ہم سائیکلوجیکل وار فیئر Psychological Warfareکہتے ہیں
انہوں نے میدان کے بیچ میں کھڑے ہو کر اپنی زرہ اور قمیض اتار دی اور برہنہ سینے کے ساتھ رومیوں پر حملہ آور ہو گئے۔
رومی فوجی سوچ رہے تھے کہ ہم نے اتنا لوہا پہنا ہے پھر بھی ہمیں موت سے ڈر لگ رہا ہے، اور یہ شخص بغیر کسی سیکیورٹی کے ہمارے بیچ گھس آیا ہے؟ اس کا مطلب ہے یہ مرنے کے لیے ہی آیا ہے اور جو انسان مرنے سے ڈرتا ہی نہ ہو، آپ اسے موت کا خوف دلا کر کیسے ہرا سکتے ہیں؟
رومیوں نے اپنے سب سے بڑے سورماؤں کو حضرت ضرار ؓ کے مقابلے کے لیے بھیجا، لیکن جس نے بھی اس ننگے جنگجو کا سامنا کیا، وہ زندہ واپس نہیں گیا۔ اس دن کے بعد سے رومی ان کے نام سے کانپنے لگے تھے۔
حضرت ضرار ؓ کی زندگی کا ایک اور انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ واقعہ دمشق کے محاصرے کے دوران پیش آیا۔
ایک جھڑپ کے دوران حضرت ضرار ؓ رومیوں کے ایک بہت بڑے لشکر کے گھیرے میں آ گئے۔ انہوں نے درجنوں رومیوں کو جہنم واصل کیا لیکن بالآخر رومیوں نے انہیں پکڑ لیا اور قیدی بنا کر لے گئے۔
جب حضرت خالد بن ولید ؓ کو خبر ملی، تو انہوں نے فوراً ایک Rescue Mission تیار کیا۔ لیکن جنگ کے اس میدان میں اچانک مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے سے ایک گھڑ سوار تیزی سے نکلا۔
اس سوار نے کالے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، چہرے پر نقاب بندھا تھا، صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔
یہ نقاب پوش سوار اکیلا ہی رومیوں کے لشکر میں گھس گیا اور اپنی تلوار سے رومیوں کی لاشیں گرانے لگا۔ اس کی بہادری دیکھ کر حضرت خالد بن ولید ؓ اور باقی مسلمان سمجھے کہ شاید یہ حضرت علی ؓ ہیں جو مدینے سے ہماری مدد کو پہنچ گئے ہیں۔
جب اس سوار نے خون میں لت پت ہو کر رومیوں کی صفیں الٹ دیں، تو حضرت خالد ؓ نے اس سے پوچھا
اے بہادر جنگجو! خدا کے لیے بتاؤ تم کون ہو؟
نقاب پوش نے جواب نہیں دیا، لیکن جب اصرار کیا گیا تو اس نقاب کے پیچھے سے ایک عورت کی آواز آئی
اے خلیفہ کے سپہ سالار میں کوئی مرد نہیں ہوں، میں ضرار کی بہن خولہ بنت ازور ہوں رومی میرے بھائی کو پکڑ کر لے گئے ہیں، میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک اپنے بھائی کو چھڑا نہ لوں
یہ سن کر مسلمانوں کے خون میں ایسی حرارت دوڑی کہ انہوں نے حضرت خولہ ؓ کے ساتھ مل کر رومیوں پر وہ زبردست حملہ کیا کہ رومی لشکر تتر بتر ہو گیا اور حضرت ضرار ؓ کو باحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔
جنگ اجنادین کے دوران ہی رومیوں کا ایک بہت بڑا کمانڈر وردان تھا۔ اس نے ایک سازش کی کہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو اکیلے بلوا کر دھوکے سے قتل کر دے گا۔ اس نے اپنے 10 سب سے خطرناک قاتلوں کو ایک جگہ چھپا دیا تاکہ جب خالد ؓ آئیں تو ان پر حملہ کر دیں۔
لیکن مسلمانوں کا انٹیلی جنس سسٹم بھی کمال کا تھا۔ حضرت خالد ؓ کو اس سازش کا پتہ چل گیا۔ انہوں نے حضرت ضرار ؓ کو بلایا اور کہا کہ وردان کا بندوبست تم کرو گے۔
حضرت ضرار ؓ اپنے 10 بہترین کمانڈوز کو لے کر رات کے اندھیرے میں اس جگہ پہنچے جہاں رومی قاتل چھپے ہوئے تھے۔
انہوں نے ان 10 رومیوں کو خاموشی سے قتل کیا، ان کے کپڑے پہنے اور ان کی جگہ چھپ کر بیٹھ گئے۔
اگلے دن جب وردان نے حضرت خالد ؓ کے ساتھ میٹنگ کے دوران دھوکے سے حملہ کرنے کے لیے اپنے قاتلوں کو آواز دی، تو اس کے بلائے ہوئے رومی قاتلوں کی جگہ حضرت ضرار ؓ اور ان کے ساتھی رومیوں کے کپڑوں میں باہر نکل آئے
وردان کا رنگ اڑ گیا، اسے سمجھ آ گئی کہ اس کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ حضرت ضرار ؓ نے وہیں اس سازشی کمانڈر کا سر قلم کر دیا اور رومن ایمپائر کو ایک ایسا دھچکا دیا جس سے وہ کبھی ریکور نہیں کر پائے۔
جب انسان کا توکل اللہ پر بھروسہ مضبوط ہو جائے اور موت کا ڈر دل سے نکل جائے، تو پھر دنیا کی کوئی سپر پاور، کوئی ٹیکنالوجی اور کوئی لوہے کی زرہ آپ کا راستہ نہیں روک سکتی۔
اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ اس نظریے اور جذبے میں ہوتی ہے جس کے لیے آپ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی زرہ اتار کر میدان میں اترتے تھے،حضرت ضرار ؓ دراصل یہ پیغام دے رہے تھے کہ
تم زمین کے ٹکڑوں اور بادشاہوں کے لیے لڑ رہے ہو، اور میں اس ذات کے لیے لڑ رہا ہوں جو موت اور زندگی کی مالک ہے۔
ایسے تھے ہمارے ہیرو جن کی داستانیں اگر ہم اپنی نسلوں کو سنائیں، تو ہمیں کسی خیالی سپر ہیرو کی ضرورت ہی نہ پڑے۔۔۔
