کبھی کبھی زندگی کی طرف سے ملنے والے تحفے محض تحفے نہیں ہوتے؛ ان کے ساتھ کسی کی محبت، خلوص، دعا اور شخصیت کی ایک خوشبو بھی لپٹی ہوتی ہے۔
انہیں ہاتھ میں لیا جائے تو بظاہر وہ ایک کتاب ہوتی ہے، مگر کھولی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کسی انسان نے اپنی زندگی کے کئی موسم، کئی صبحیں، کئی شامیں، کچھ قہقہے، کچھ آنسو، کچھ دعائیں، کچھ خواب اور کچھ بھولی بسری یادیں بڑے سلیقے سے رکھ چھوڑی ہیں۔
روبینہ قریشی صاحبہ نے اپنی خوب صورت کتاب ’’حاصلِ زیست‘‘ تحفتاً عنایت کر کے ہمیں بھی اسی نوع کے ایک محبت بھرے تجربے سے سرشار کیا۔
کتاب ملی تو خوشی ہوئی، پڑھی تو احساس ہوا کہ اس تحفے کا جواب محض شکریے کے دو لفظوں میں دینا شاید اس محبت کے ساتھ انصاف نہ ہوگا۔ سو مناسب سمجھا کہ چند سطریں لکھ کر اس محبت کا کچھ قرض اتارنے کی کوشش کی جائے۔
اگرچہ دل یہ بھی جانتا ہے کہ محبت، خلوص اور علم کے کچھ قرض ایسے ہوتے ہیں جو کبھی پوری طرح ادا نہیں ہوتے۔ انسان بس لفظوں کی صورت میں اعتراف کرتا ہے، دعا کی صورت میں جواب دیتا ہے اور دل کے کسی روشن گوشے میں اس احسان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔
’’حاصلِ زیست‘‘ میرے سامنے بھی محض ایک کتاب بن کر نہیں آئی؛ یہ روبینہ قریشی صاحبہ کے ایک ایسے باطن کا دروازہ بن کر آئی جس کے اندر زندگی ابھی تک دھڑکتی ہے، ہنستی ہے، خواب دیکھتی ہے، کبھی شرارت کرتی ہے، کبھی رب کے سامنے بیٹھ کر ضد کرتی ہے اور کبھی ماضی کی کسی گلی میں جا کر اچانک مسکرا دیتی ہے۔
اور شاید یہی اس کتاب کی پہلی خوبی ہے کہ یہ زندگی کو دور کھڑے ہو کر نہیں دیکھتی؛ زندگی کے اندر اتر کر اسے محسوس کرتی ہے۔
زندگی ایک سفر ہے، مگر سفر کی خوب صورتی مسافر کے مزاج سے بنتی ہے
زندگی سب کو ایک جیسی نہیں ملتی۔ کسی کے راستے میں پھول زیادہ ہوتے ہیں، کسی کے حصے میں کانٹے۔ کسی کے سفر میں دھوپ طویل ہوتی ہے، کسی کو سایہ جلد مل جاتا ہے۔
کوئی راستے کی دشواریوں کا شکوہ کرتے کرتے منزل تک پہنچتا ہے اور کوئی وہی پتھریلی راہ طے کرتے ہوئے راستے میں کھلے کسی ننھے سے پھول کو دیکھ کر مسکرا دیتا ہے۔
روبینہ قریشی انہی مسافروں میں سے ہیں جو راستے کی سختیوں کے باوجود راستے سے محبت کرنا جانتی ہیں۔
انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو صرف برداشت نہیں کیا، انہیں محسوس کیا، سمجھا، ان سے سیکھا اور پھر ان تجربات کو لفظوں میں ڈھال دیا۔
یوں ان کی زندگی کے بہت سے منتشر لمحے ایک جگہ جمع ہوئے اور ’’حاصلِ زیست‘‘ وجود میں آئی۔
یہ کتاب اس اعتبار سے محض مضامین کا مجموعہ نہیں کہ ہر مضمون الگ تھلگ پڑا ہوا ایک واقعہ نہیں؛ بلکہ سب تحریریں مل کر ایک ایسی زندگی کا نقشہ بناتی ہیں جس میں انسان کبھی ہنستا ہے، کبھی روتا ہے، کبھی ٹھوکر کھاتا ہے، کبھی دعا کرتا ہے، کبھی معاف کرتا ہے اور کبھی خود اپنے اندر جھانک کر اپنے ہی وجود سے سوال کر بیٹھتا ہے۔
انسان کے اندر ایک فرشتہ بھی ہے، ایک شیطان بھی اور ایک بچہ بھی
روبینہ قریشی کے فکری زاویوں میں سب سے دل چسپ اور معنی خیز بات انسان کے اندر موجود ان تین کرداروں کا ذکر ہے۔
ان کے مطابق ہر انسان کے اندر ایک فرشتہ ہے، جو ہمارا ضمیر ہے؛ ایک شیطان ہے، جو ہمارا نفس ہے؛ اور ایک بچہ ہے، جو ہماری فطرت ہے۔
یہ تقسیم بظاہر سادہ ہے، مگر اگر ذرا ٹھہر کر سوچا جائے تو انسانی زندگی کی پوری کہانی اس ایک خیال میں سمٹتی محسوس ہوتی ہے۔
ضمیر ہمیں روکتا ہے۔
نفس ہمیں اکساتا ہے۔
اور اندر کا بچہ ہمیں پھر سے انسان بنا دیتا ہے۔
یہ بچہ ہمیں محبت کرنا سکھاتا ہے۔
یہ زیادہ دیر ناراض نہیں رہتا۔
یہ معاف کر دیتا ہے۔
یہ چھوٹی سی خوشی پر خوش ہو جاتا ہے۔
یہ کسی کی تکلیف دیکھ کر بے اختیار نرم پڑ جاتا ہے۔
یہ دوسروں کے لیے اچھا کر کے حساب کتاب نہیں رکھتا۔
اور شاید سب سے خوب صورت بات یہ کہ یہ بچہ اللہ سے بات کرنے میں کسی تکلف کا پابند نہیں ہوتا۔
کبھی دعا کرتا ہے، کبھی رو کر مانگتا ہے، کبھی شکر ادا کرتا ہے اور کبھی ایسی معصوم سی ضد کرتا ہے جیسے اسے یقین ہو کہ جس رب کو وہ اپنا سمجھتا ہے، وہ اسے خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجے گا۔
روبینہ قریشی نے اسی بچے کو اپنے اندر زندہ رکھا ہے۔
اور یہی وہ راز ہے جس نے ان کی نثر کو عمر کے حساب سے بوجھل ہونے نہیں دیا۔
ساٹھ برس کی عمر اور اندر کی وہ لڑکی جو ابھی تک شرارت کرتی ہے
روبینہ قریشی صاحبہ کے قلم کی سب سے دل چسپ بات شاید یہی ہے کہ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے قاری کو کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ زندگی کے کئی عشروں کا سفر طے کر چکی شخصیت سے مل رہا ہے۔
وہاں ایک ایسی بے ساختگی ہے جو عمر کے اعداد سے بے نیاز ہے۔
جب انہوں نے لکھنا شروع کیا تو خواتین کے حلقوں میں اکثر ان سے عمر پوچھی جاتی۔ جب وہ بتاتیں کہ عمر ساٹھ کے قریب ہے تو کئی لڑکیاں یقین کرنے پر آمادہ نہ ہوتیں۔
کیوں؟
اس لیے کہ ان کے مزاج میں وہی شرارت، وہی بے ساختگی، وہی چنچل پن اور وہی زندہ دلی موجود تھی جسے ہم عموماً عمر کے ابتدائی حصوں سے منسوب کر دیتے ہیں۔
مگر روبینہ قریشی نے شاید عمر کو کبھی اپنے دل کا نگران مقرر ہی نہیں کیا۔
عمر نے کہا: اب سنجیدہ ہو جاؤ۔
دل نے کہا: کیوں؟
عمر نے کہا: اب شرارتیں اچھی نہیں لگتیں۔
دل نے کہا: کس نے کہا؟
عمر نے کہا: اب خواب دیکھنے کی عمر نہیں۔
دل نے مسکرا کر کہا: خوابوں کی بھی کوئی ریٹائرمنٹ ہوتی ہے؟
یہی تو کمال ہے۔
جسم عمر کے ساتھ آگے بڑھتا رہا، مگر اندر کا بچہ وہیں رہا جہاں اسے خوشی ملتی تھی۔
سردیوں کی ٹھنڈی رات اور دودھ جلیبی۔
اچانک بجلی چلی جائے اور بچوں کو ڈرا کر خود ان کے ساتھ ہنسنا۔
بیٹیوں کے ساتھ گڑیا کی شادی رچانا۔
اور آج پوتوں کے ساتھ کاغذ کے جہاز اڑانا۔
یہ معمولی واقعات نہیں؛ یہی تو زندگی کے اصل جواہر ہیں۔
ہم بڑے بڑے مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں اور زندگی چھوٹے چھوٹے لمحوں کی صورت ہمارے پاس سے گزر جاتی ہے۔
روبینہ قریشی ان چھوٹے لمحوں کو پکڑ لینا جانتی ہیں۔
’’حاصلِ زیست‘‘ میں زندگی کتاب نہیں، گھر بن کر سامنے آتی ہے
اس کتاب کی نثر کا ایک بڑا وصف اس کی اپنائیت ہے۔
روبینہ قریشی قاری سے مخاطب ہوتے ہوئے ایسا محسوس نہیں کراتیں جیسے وہ کسی بلند مقام پر کھڑی ہیں اور سامنے بیٹھے لوگ ان کا خطاب سن رہے ہیں۔
وہ تو جیسے برابر والی کرسی پر بیٹھ جاتی ہیں۔
کہتی ہیں، آؤ، تمہیں ایک بات سناتی ہوں۔
اور پھر ایک قصہ شروع ہو جاتا ہے۔
کبھی گاؤں کی شادی کا۔
کبھی گھر کے کسی واقعے کا۔
کبھی بچوں کی شرارت کا۔
کبھی کسی ایسی بات کا جو بظاہر معمولی تھی مگر وقت گزرنے کے بعد یادوں کا قیمتی حصہ بن گئی۔
یہی ان کی تحریر کا حسن ہے۔
وہ معمولی واقعات میں غیر معمولی معنویت تلاش کر لیتی ہیں۔
گاؤں کی شادی محض شادی نہیں رہتی؛ پورا معاشرہ سامنے آ جاتا ہے۔
بچوں کا شور محض شور نہیں رہتا؛ ایک پورا عہد زندہ ہو جاتا ہے۔
سردیوں کی جلیبی محض جلیبی نہیں رہتی؛ بچپن کی ایک شام بن جاتی ہے۔
اور کاغذ کا جہاز محض کاغذ کا جہاز نہیں رہتا؛ خوابوں کو پر لگانے کی علامت بن جاتا ہے۔
شگفتگی بھی ایک نعمت ہے
ہم نے ادب کو شاید غیر ضروری طور پر بہت سنجیدہ بنا دیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اگر تحریر میں دو چار بھاری الفاظ، کچھ فلسفیانہ اصطلاحات اور چند پیچیدہ جملے نہ ہوں تو وہ ادبی نہیں کہلا سکتی۔
روبینہ قریشی اس خیال سے اختلاف کرتی محسوس ہوتی ہیں۔
ان کی نثر بتاتی ہے کہ ادب قاری کو صرف سوچنے پر مجبور کرنے کا نام نہیں؛ کبھی اسے مسکرانا سکھانا بھی ادب ہے۔
کبھی ماضی کی کوئی خوشبو واپس لے آنا بھی ادب ہے۔
کبھی دل پر جمی ہوئی اداسی کی تہہ کو ہلکا سا کھرچ دینا بھی ادب ہے۔
اور کبھی زندگی کے ایک سنجیدہ سبق کو اس انداز میں کہنا کہ قاری پہلے مسکرائے اور پھر کچھ دیر سوچتا رہے، یہ بھی ایک بڑی ادبی صلاحیت ہے۔
’’حاصلِ زیست‘‘ میں یہی شگفتگی بار بار نظر آتی ہے۔
یہ کتاب قاری کو لیکچر نہیں دیتی۔
یہ اس کے ساتھ چلتی ہے۔
کبھی ہنستی ہے، کبھی خاموش ہو جاتی ہے اور کبھی اچانک کوئی ایسی بات کہہ جاتی ہے جس پر قاری کتاب بند کر کے سوچنے لگتا ہے۔
دکھ کو نوحہ نہیں، سبق بنانا
روبینہ قریشی کی تحریر میں زندگی کی تلخیاں بھی ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر تلخی نہیں۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
کچھ لوگ دکھ جھیل کر کڑوے ہو جاتے ہیں۔
کچھ لوگ دکھ جھیل کر گہرے۔
روبینہ قریشی کا قلم دوسرے راستے پر چلتا ہے۔
وہ دکھ کو نوحہ بنانے کے بجائے سبق بناتی ہیں۔
مصیبت کو سوال بننے نہیں دیتیں، دعا بنا دیتی ہیں۔
شکایت کو دل پر بوجھ بنانے کے بجائے اسے تجربے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے قاری کو زندگی کی مشکلات سے خوف نہیں آتا؛ اسے محسوس ہوتا ہے کہ مشکل کے اندر بھی کوئی معنی چھپا ہو سکتا ہے۔
یہی شکرگزاری ان کے مزاج کا روشن پہلو ہے۔
وہ زندگی سے ہر وقت یہ نہیں پوچھتیں کہ مجھے کیا نہیں ملا۔
بلکہ جو ملا، اس پر نظر ڈالتی ہیں اور کہتی ہیں:
شکر ہے۔
یہ ’’شکر‘‘ ہی شاید ان کی نثر کو اتنا نرم رکھتا ہے۔
دعا: جہاں لفظ ختم ہوتے ہیں اور دل بولنے لگتا ہے
’’حاصلِ زیست‘‘ کا روحانی پہلو بھی اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
روبینہ قریشی کے ہاں اللہ سے تعلق رسمی نہیں بلکہ ذاتی، زندہ اور محسوس کیا جانے والا تعلق ہے۔
ان کی دعا میں محض الفاظ نہیں، کیفیت ہے۔
وہ رب سے ایسے مخاطب ہوتی ہیں جیسے ایک بندہ اپنے سب سے قابلِ اعتماد سہارے سے بات کر رہا ہو۔
کبھی دل کی بات کہتی ہیں، کبھی اپنی کمزوری کا اعتراف کرتی ہیں، کبھی شکر ادا کرتی ہیں اور کبھی آنکھوں میں نمی لیے اپنی خواہش رب کے سامنے رکھ دیتی ہیں۔
یہاں ان کی تحریر وعظ نہیں رہتی، ایک ذاتی مکالمہ بن جاتی ہے۔
اور شاید دعا کی سب سے خوب صورت صورت بھی یہی ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے مصنوعی نہ رہے۔
دنیا کے سامنے ہم کتنے کردار ادا کرتے ہیں، مگر دعا میں آدمی صرف آدمی رہ جاتا ہے۔
روبینہ قریشی کی روحانی تحریروں میں یہی سادگی دل کو چھوتی ہے۔
معاف کر دینا: دل کو ہلکا رکھنے کا ہنر
ان کے فلسفۂ زندگی میں معافی بھی ایک اہم قدر ہے۔
وہ سمجھتی ہیں کہ دل میں بغض جمع کرتے رہنا دراصل اپنے ہی دل کو بوجھل کرنا ہے۔
ہم دوسروں کی غلطیوں کو یاد رکھتے ہیں، تاریخیں یاد رکھتے ہیں، جملے یاد رکھتے ہیں، لہجے یاد رکھتے ہیں اور برسوں بعد بھی کہتے ہیں:
’’مجھے وہ بات آج تک یاد ہے۔‘‘
مگر زندگی اتنی مختصر ہے کہ ہر تکلیف کو عمر بھر سنبھال کر رکھنا شاید اپنے ساتھ زیادتی ہے۔
روبینہ قریشی کا زندہ بچہ معاف کرنا جانتا ہے۔
بچہ ناراض ہوتا ہے تو رو لیتا ہے، من جاتا ہے، اور تھوڑی دیر بعد پھر اسی دنیا میں کھیلنے لگتا ہے۔
شاید بڑوں کو بھی کبھی کبھی اپنے اندر کے بچے سے یہ سبق دوبارہ لینا چاہیے۔
اٹھاون برس میں قلم اٹھانا اور باسٹھ برس میں ’’حاصلِ زیست‘‘ تک پہنچ جانا
یہ حصہ صرف روبینہ قریشی کی ادبی زندگی کا واقعہ نہیں، ایک پورا حوصلہ ہے۔
انہوں نے 58 برس کی عمر میں قلم اٹھایا۔
ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ نئی شروعات کو اپنے لیے ناممکن سمجھنے لگتے ہیں، انہوں نے اپنے اندر سے آنے والی آواز سنی:
’’جو کچھ زندگی نے سکھایا ہے، اسے لکھو۔‘‘
اور انہوں نے لکھنا شروع کر دیا۔
زندگی کے تجربات لفظ بنتے گئے، یادیں تحریریں بنتی گئیں، مشاہدے مضامین بنتے گئے اور پھر 62 برس کی عمر میں ’’حاصلِ زیست‘‘ سامنے آئی۔
آج اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن آنا اس بات کی خوب صورت گواہی ہے کہ خلوص سے لکھا ہوا تجربہ قاری تک پہنچنے کا راستہ خود تلاش کر لیتا ہے۔
یہ کامیابی صرف ایک مصنفہ کی کامیابی نہیں۔
یہ ان تمام لوگوں کے لیے امید ہے جو سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے وقت گزر چکا۔
وقت گزرتا ضرور ہے، مگر خوابوں کے لیے نہیں۔
جب تک انسان کے اندر کچھ کہنے، کچھ کرنے، کچھ سیکھنے اور کچھ بانٹنے کی خواہش باقی ہے، تب تک نئی صبح کا امکان باقی ہے۔
’’حاصلِ زیست‘‘ کا کمال: یہ آپ کو کہیں نہ کہیں اپنا بنا لیتی ہے
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے سب سے خوب صورت تجربہ شاید یہی ہے کہ قاری روبینہ قریشی کو پڑھتے پڑھتے اچانک خود کو پڑھنے لگتا ہے۔
ایک واقعہ ان کی زندگی کا ہوتا ہے، مگر یاد اپنی زندگی کی آ جاتی ہے۔
ایک خوشی ان کی ہوتی ہے، مگر مسکراہٹ اپنے بچپن کی یاد دلا دیتی ہے۔
ایک دعا ان کی ہوتی ہے، مگر دل میں اپنی کوئی پرانی دعا جاگ اٹھتی ہے۔
ایک دکھ ان کا ہوتا ہے، مگر آنکھیں اپنے کسی گزرے ہوئے موسم کی نمی محسوس کرنے لگتی ہیں۔
یہی اچھی خودنوشت نما نثر کی بڑی کامیابی ہے کہ مصنف کا تجربہ قاری کا تجربہ بن جائے۔
روبینہ قریشی کی ’’حاصلِ زیست‘‘ اسی مقام پر خاصی کامیاب دکھائی دیتی ہے۔
یہ کتاب پڑھ کر کبھی ہنسی آئے گی، کبھی آنکھ بھیگے گی
’’حاصلِ زیست‘‘ یک رنگ کتاب نہیں۔
یہاں زندگی کے کئی رنگ ایک دوسرے میں گھلے ہوئے ہیں۔
کبھی آپ بے اختیار مسکرائیں گے۔
کبھی کوئی واقعہ آپ کو اپنے گھر کے کسی پرانے قصے میں لے جائے گا۔
کبھی کسی روحانی تحریر پر دل ٹھہر جائے گا۔
کبھی کسی جملے کے پیچھے چھپا تجربہ آپ کو خاموش کر دے گا۔
اور کبھی ایسا ہوگا کہ آپ کتاب بند کر کے کچھ دیر سوچیں گے:
’’واقعی، میں نے اپنی زندگی میں کتنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نظر انداز کر دیا!‘‘
یہی کتاب کی تاثیر ہے۔
اچھی کتاب وہ نہیں جو صرف پڑھی جائے۔
اچھی کتاب وہ ہے جو پڑھنے کے بعد بھی انسان کے اندر کچھ دیر تک بولتی رہے۔
حاصلِ زیست آخر ہے کیا؟
یہ سوال اس کتاب کے عنوان میں بھی ہے اور اس کے ہر باب کے اندر کہیں نہ کہیں موجود ہے۔
حاصلِ زیست کیا ہے؟
کیا وہ دولت ہے جو ہم نے جمع کی؟
وہ عہدہ جو ہمیں ملا؟
وہ شہرت جس کے پیچھے ہم دوڑے؟
یا وہ مکان، وہ آسائشیں، وہ کامیابیاں جنہیں ہم اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتے رہے؟
شاید نہیں۔
حاصلِ زیست شاید وہ چند لمحے ہیں جن میں ہم نے کسی کے کام آ کر خوشی محسوس کی۔
وہ آنسو ہیں جو دعا میں بہے۔
وہ معافیاں ہیں جو دل کو ہلکا کر گئیں۔
وہ قہقہے ہیں جو برسوں بعد بھی یاد آتے ہیں۔
وہ بچے ہیں جن کے ساتھ ہم خود بچہ بن گئے۔
وہ پوتے ہیں جن کے لیے کاغذ کا جہاز بنایا۔
وہ بیٹیاں ہیں جن کے ساتھ گڑیا کی شادی رچائی۔
وہ سرد راتیں ہیں جن میں دودھ جلیبی نے موسم کو خوش گوار بنا دیا۔
وہ لمحے ہیں جن میں ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
اور وہ خواب ہیں جنہیں دنیا نے کہا کہ اب تمہاری عمر نہیں، مگر دل نے کہا:
’’خواب دیکھنے کی عمر نہیں ہوتی۔‘‘
یہی شاید روبینہ قریشی کے نزدیک حاصلِ زیست ہے۔
آخر میں ایک بات، جو شاید پوری کتاب کا خلاصہ ہے
روبینہ قریشی نے اپنے اندر کے بچے کو مرنے نہیں دیا۔
انہوں نے ضمیر کو زندہ رکھا، نفس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور فطرت کے اس معصوم حصے کو بھی زندہ رکھا جو اب تک دنیا کو حیرت سے دیکھتا ہے۔
یہی ان کی شخصیت کی تازگی ہے۔
یہی ان کی نثر کی شگفتگی ہے۔
یہی ان کے لفظوں کی روشنی ہے۔
اور شاید یہی ’’حاصلِ زیست‘‘ کا اصل راز بھی۔
ہم سب کے اندر ایک بچہ موجود ہے۔
وہ کبھی بارش میں بھیگنا چاہتا ہے۔
کبھی بے وجہ ہنسنا چاہتا ہے۔
کبھی کسی اپنے کو گلے لگانا چاہتا ہے۔
کبھی ماضی کی گلی میں لوٹ جانا چاہتا ہے۔
کبھی اللہ کے سامنے بیٹھ کر رو لینا چاہتا ہے۔
اور کبھی کاغذ کا ایک جہاز بنا کر اسے ہوا کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔
ہم نے مگر زندگی کو اتنا سنجیدہ لے لیا ہے کہ اس بچے کی آواز سننا ہی چھوڑ دی۔
روبینہ قریشی نے اس آواز کو سنا۔
اس کا ہاتھ تھاما۔
اسے قلم دیا۔
اور کہا:
’’چلو، جو کچھ زندگی نے سکھایا ہے، اسے لکھتے ہیں۔‘‘
پھر وہی قلم چلا اور ’’حاصلِ زیست‘‘ وجود میں آ گئی۔
اسی لیے یہ کتاب صرف روبینہ قریشی کی زندگی کا حاصل نہیں؛ یہ ہم سب کے لیے ایک نرم سی دستک ہے۔
ان لوگوں کے لیے جو زندگی کی دوڑ میں تھک گئے ہیں۔
ان کے لیے جنہیں لگتا ہے کہ خواب دیکھنے کی عمر گزر گئی۔
ان کے لیے جن کے دل پر مایوسی کی گرد جم گئی ہے۔
اور ان کے لیے بھی جو ابھی تک دل کے کسی کونے میں ایک ننھی سی خواہش سنبھالے بیٹھے ہیں۔
’’حاصلِ زیست‘‘ جیسے کہتی ہے:
واپس آؤ۔
اپنے اندر کے بچے کو آواز دو۔
ضمیر کو زندہ رکھو۔
نفس کو لگام دو۔
لوگوں کو معاف کرو۔
اپنے رب سے بات کرو۔
چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو تھامو۔
اور خوابوں کو عمر کے ترازو میں مت تولو۔
کیونکہ جب تک دل زندہ ہے، زندگی ختم نہیں ہوئی۔
اور جب تک اندر کا بچہ زندہ ہے، انسان بوڑھا نہیں ہوا۔
روبینہ قریشی کی ’’حاصلِ زیست‘‘ اسی زندہ دل زندگی کا خوب صورت استعارہ ہے۔
یہ کتاب زندگی کو سمجھانے سے زیادہ، زندگی سے دوبارہ محبت کرنا سکھاتی ہے۔
اور شاید یہی کسی کتاب کا سب سے بڑا کمال ہے کہ اسے پڑھ کر انسان دنیا کو نہیں، پہلے اپنے آپ کو ذرا مختلف نظر سے دیکھنے لگے۔
’’حاصلِ زیست‘‘ کے لیے اس سے بہتر تعارف شاید یہی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات پلٹتے ہوئے کبھی ہونٹوں پر مسکراہٹ آتی ہے، کبھی آنکھوں میں نمی اترتی ہے، کبھی دل دعا کے لیے اٹھتا ہے اور کبھی اندر سے کوئی شرارتی بچہ اچانک سرگوشی کرتا ہے:
’’ابھی تو بہت کچھ جینا باقی ہے۔‘‘
اور یہی، شاید، روبینہ قریشی کی ’’حاصلِ زیست‘‘ کا سب سے حسین حاصل ہے۔
("حاصل زیست" جناب روفی سرکار اور میم روبینہ قریشی صاحبہ سے رابطہ کر کے منگوائی جا سکتی ہے)
wa.me/+923004228864
