خواب ریزے ازعذرا عندلیب وفا۔۔ عامر عباس ناصر

 
کچھ کتابیں پڑھی نہیں جاتیں، دل پر اتاری جاتی ہیں۔ کچھ شعر سمجھے نہیں جاتے، محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور کچھ شاعرائیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے دل کی بات لفظوں میں لکھتے لکھتے اچانک قاری کے دل کی ترجمان بن جاتی ہیں۔

عذرا عندلیب وفا اور ان کا شعری مجموعہ ’’خواب ریزے‘‘ اسی کیفیت کا نام ہے۔

ایبٹ آباد کی ادبی فضا میں عذرا عندلیب وفا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ شعر و ادب سے ان کی وابستگی، ادبی محفلوں میں ان کی فعال شرکت اور حلقۂ اربابِ سخن ہزارہ کی خاتون نائب صدر کی حیثیت سے ان کی ادبی سرگرمیاں انہیں یہاں کی ادبی زندگی میں ایک نمایاں شناخت عطا کرتی ہیں۔

مگر شاعر کا اصل تعارف عہدہ نہیں، اس کا شعر ہوتا ہے۔

اور ’’خواب ریزے‘‘ میرے سامنے ہے۔

نام ہی ایسا کہ جیسے کسی نے خوابوں کی پوٹلی کھولی ہو اور اس میں سے کچھ روشن ٹکڑے، کچھ بھیگی یادیں، کچھ شکستہ خواہشیں اور کچھ دل کے چھپے ہوئے راز کاغذ پر بکھیر دیے ہوں۔

خواب جب تک آنکھ میں رہتے ہیں مکمل ہوتے ہیں؛ زندگی انہیں چھوتی ہے تو ریزہ ریزہ ہونے لگتے ہیں، اور جب وہ ریزے لفظوں میں ڈھل جائیں تو شاعری جنم لیتی ہے۔

شاید عذرا عندلیب وفا نے بھی یہی کیا ہے۔

---

دو بیٹیاں

کتاب کا انتساب شاعرہ نے اپنی دونوں بیٹیوں ملائکہ اور نقشِ فاطمہ کے نام کیا ہے۔

ایک ماں اپنی تخلیق اولاد کے نام کرے تو وہ صرف کتاب نہیں دیتی، اپنے دل کے موسم ان کے سپرد کرتی ہے۔ یہ صفحات پھر صرف شاعری نہیں رہتے؛ ماں کی آواز، اس کے خواب، اس کے دکھ اور اس کے محسوس کیے ہوئے لمحوں کی امانت بن جاتے ہیں۔

ممکن ہے برسوں بعد جب ملائکہ اور نقشِ فاطمہ ان صفحات کو دوبارہ کھولیں تو انہیں صرف اپنی ماں کی شاعری نہ ملے بلکہ اپنی ماں کا ایک زمانہ مل جائے۔

یہ انتساب اسی لیے کتاب کے حسن میں پہلا اضافہ ہے۔

---

دل کی بات

کتاب کے حرفِ اول میں عذرا عندلیب وفا نے اپنے تخلیقی سفر کی اصل بنیاد خود بیان کر دی ہے:

«’’یہ کتاب میری نہیں، میرے خوابوں، میرے زخموں، میرے ... اور میرے سارے احساسات کی ترجمانی ہے۔ اگر اس میں آپ کو اپنے دل کا ایک ٹکڑا، اپنا کوئی لمحہ، اپنی کوئی دھڑکن مل جائے تو میں سمجھوں گی میرا پہلا سفر کامیاب رہا۔‘‘»

کتنی سادہ، مگر کتنی گہری بات!

وہ کتاب کو اپنی ملکیت نہیں کہتیں، اپنے خوابوں اور زخموں کی ترجمان کہتی ہیں۔

اور شاعری کی اصل کامیابی بھی شاید یہی ہے۔

شاعر کا دکھ جب صرف اس کا دکھ نہ رہے، شاعر کی یاد جب قاری کی یاد بن جائے اور شاعر کی دھڑکن کسی دوسرے دل میں سنائی دینے لگے تو شعر اپنی تنہائی سے نکل کر زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

عذرا نے قاری کے لیے دروازہ پہلے ہی کھول دیا ہے:

اگر ان خواب ریزوں میں تمہیں اپنا کوئی ٹکڑا مل جائے، تو میرا سفر کامیاب ہے۔

اب دیکھیے، یہ سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے۔

---

درِ مدینہ

شاعرہ کا احساس پہلے نعت کی روشنی میں نہاتا ہے:

«بڑے خوش بخت ہیں آقا جو جا کر دیکھ آتے ہیں
ترے در کے نظارے، سنہری جالیوں والے»

یہاں ’’خوش بخت‘‘ محض خوشی نہیں، نصیب کی سعادت ہے۔

’’سنہری جالیوں‘‘ کا ذکر ایک پورا روحانی منظر قاری کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ شعر میں کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں، مگر عقیدت کی وہ نمی ہے جو سیدھی دل پر اترتی ہے۔

گویا خوابوں کے اس سفر کی پہلی روشنی مدینے کی سمت سے آتی ہے۔

اور جب دلِ شاعر عقیدت سے روشن ہو جائے تو اگلا منظر لازماً اس تاریخ کی طرف جاتا ہے جہاں محبت نے اپنی سب سے بڑی قیمت ادا کی۔

---

کربلا

سلامِ حسینؑ میں شاعرہ کا لہجہ یکایک حماسی ہو جاتا ہے:

«کٹا کے سر بچا لیا جو دینِ مصطفیٰ
ہیں امتِ رسول کا غرور بھی حسینؑ
تجلیاں تھیں نوک پر سناں کی دکھ رہیں
لٹا کے جان لگ رہے تھے طور بھی حسینؑ»

یہاں کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، اصول کی حفاظت کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔

’’کٹا کے سر بچا لیا‘‘ میں وہ عظیم تضاد ہے جس نے کربلا کو قیامت تک زندہ رکھا: ظاہری طور پر سر کٹ گیا، مگر مقصد بچ گیا۔

اور ’’نوکِ سناں‘‘ پر ’’تجلیاں‘‘ دیکھنا ایک خوب صورت شعری پیکر ہے۔ مقتل کے خون آلود منظر میں نور تلاش کرنا دراصل کربلا کی روح کو محسوس کرنا ہے۔

یہاں موت بھی ہے، مگر شکست نہیں۔

خون بھی ہے، مگر اندھیرا نہیں۔

سر کٹا، پیغام نہ کٹا۔

اسی عقیدت کے بعد شاعرہ پھر اپنے دل کی دنیا میں اترتی ہیں، جہاں ایک اور محبت اس کا انتظار کر رہی ہے۔

---

بس تیرا خیال

«مجھے تو یہ بھی بہت ہے، تری محبت میں
خموش زندگی ہے پر، ترا خیال لیے»

محبت کا کتنا کفایت شعار اقرار ہے!

نہ وصال کا مطالبہ، نہ دنیا بھر کی گواہی؛ بس ایک خیال کافی ہے۔

باہر زندگی خاموش ہے، مگر اندر محبوب آباد ہے۔

کبھی کبھی انسان کے پاس کسی شخص کی موجودگی نہیں ہوتی، صرف اس کا خیال ہوتا ہے؛ مگر وہ خیال بھی اتنا بھرپور ہوتا ہے کہ پوری زندگی اس کے سہارے گزر جاتی ہے۔

محبت شاید کبھی کبھی ساتھ رہنے کا نہیں، خیال میں زندہ رہنے کا نام بھی ہے۔

لیکن جس دل میں اتنی گہری محبت ہو، اس کے چہرے کی مسکراہٹ کو بھی سادہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟

---

چھپا ہوا غم

«اگر تو دیکھے میرے تبسم کے پیچھے کیا کیا چھپا ہوا ہے
غلط ہی نکلیں گے میرے بارے میں تیرے سارے قیاس اکثر»

یہاں شاعرہ چہرے اور باطن کے درمیان کھڑی ہو جاتی ہیں۔

تبسم سامنے ہے، داستان پیچھے۔

دنیا اکثر مسکراہٹ دیکھ کر فیصلہ کر لیتی ہے کہ انسان خوش ہے، مگر حساس دل جانتا ہے کہ بعض مسکراہٹیں غم کی سب سے خوب صورت نقاب ہوتی ہیں۔

شاعرہ جیسے کہتی ہیں:

میرے چہرے کو مت پڑھو، میرے سکوت کو پڑھو۔

کیونکہ بعض اوقات جو دکھ زبان نہیں بتاتی، وہ آنکھیں پوری تفصیل سے لکھ دیتی ہیں۔

---

خاموش زبان

«شکایت کو ہلیں گے لب مگر کچھ کہہ نہ پائیں گے
مرے غم کا فسانہ میری آنکھوں سے عیاں ہو گا»

لب ہلے، مگر الفاظ نہ نکلے۔

پھر آنکھیں بول اٹھیں۔

یہ شعر انسانی جذبات کی اس سرحد کو چھوتا ہے جہاں زبان بے بس ہو جاتی ہے اور آنکھیں ترجمان بن جاتی ہیں۔

کچھ دکھ اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ انہیں جملے نہیں ملتے۔

وہ صرف آنکھوں میں اترتے ہیں۔

اور جب آنکھوں میں دکھ اتر جائے تو زندگی کے پھول بھی کبھی کبھی کم محسوس ہونے لگتے ہیں۔

---

سسکیوں کا شہر

«تری دنیا میں گل اتنے مسرت کے نہیں کھلتے
کہ جتنی سسکیاں لیتی ہے یارب زندگی اس میں»

یہاں شاعرہ کا سوال محبوب سے نہیں، رب سے ہے۔

یہی مقام اس شعر کو ذاتی شکوے سے نکال کر ایک وسیع انسانی سوال بنا دیتا ہے۔

کتنی خوشیاں؟

کتنے دکھ؟

کتنے پھول؟

کتنی سسکیاں؟

زندگی کی خوب صورتی اپنی جگہ، مگر حساس دل اس کے نیچے چھپی ہوئی خراشیں بھی دیکھ لیتا ہے۔

اور شاید اسی لیے اگلا قدم عشق کے اس راستے کی طرف جاتا ہے جہاں پھولوں کے بجائے آگ استقبال کرتی ہے۔

---

آگ کا دریا

«کھٹن ہیں منزلیں اس عشق کی مجھ کو خبر کیا تھی
یہ دریا آگ کا تھا اور میں جا کر مر گئی اس میں»

عشق کا سفر شروع کرتے وقت کون جانتا ہے کہ راستہ آگ کا ہے؟

’’خبر کیا تھی‘‘ میں معصومیت ہے۔

’’آگ کا دریا‘‘ میں خطرہ۔

اور ’’مر گئی‘‘ میں مکمل خودسپردگی۔

کچھ لوگ عشق میں بچ نکلتے ہیں، کچھ عشق کو چھوڑ دیتے ہیں، اور کچھ—

عشق میں فنا ہو جاتے ہیں۔

عذرا کا عاشق بھی شاید اسی آخری قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔

اور جب عشق انسان کو اس حد تک چھو لے تو پھر ایک یاد بھی برسوں بے چین رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

---

ایک یاد

«اک تری یاد نے بے چین کیا ہے برسوں
اک تری بات سدا باعثِ تکرار رہی»

کتنی معمولی چیزیں انسان کی پوری زندگی پر قبضہ کر لیتی ہیں!

ایک یاد۔

ایک بات۔

اور برسوں کی بے قراری۔

کبھی ایک شخص زندگی سے نکل جاتا ہے مگر اس کا ایک جملہ زندگی سے نہیں نکلتا۔

وقت گزر جاتا ہے، مگر کچھ لفظ وقت سے بھی زیادہ ضدی ہوتے ہیں۔

وہ بار بار واپس آتے ہیں۔

اسی یاد کے ساتھ دل اپنے دامن کو بھی بچانا چاہتا ہے، مگر دنیا کی نگاہ کہاں کسی کا دامن دیکھتی ہے!

---

دامنِ دل

«دامنِ دل کو یہاں لاکھ بچایا میں نے
پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہ گار رہی»

یہ شعر ایک حساس عورت کے سماجی تجربے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

انسان اپنے دل کو بچائے، اپنی نیت سنبھالے، اپنی حدود قائم رکھے؛ مگر دنیا کی نگاہ کبھی کبھی حقیقت سے پہلے فیصلہ سنا دیتی ہے۔

دامن بچ گیا، الزام نہ بچ سکا۔

اور شاید اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا رنگ دیکھتی ہے، اس رنگ کے پیچھے چھپا درد نہیں۔

---

رنگ کا دکھ

«اس میں کتنی تمناؤں کا خون ہے
کون سمجھے گا رنگِ حنائی کا دکھ»

حنا کا رنگ عموماً خوشی کا استعارہ ہے۔

مگر شاعرہ اسی رنگ میں تمناؤں کا خون دیکھ رہی ہیں۔

یہاں جمال اور الم ایک دوسرے میں گھل گئے ہیں۔

باہر رنگ ہے، اندر زخم۔

باہر خوشی ہے، اندر قربانی۔

اور یہی شاعر کی آنکھ کا کمال ہے کہ جہاں عام نظر کو صرف حنا دکھائی دیتی ہے، شاعرہ کو اس رنگ کے پیچھے بہتا ہوا خون بھی دکھائی دیتا ہے۔

---

عندلیب!

«عندلیب اس قدر خود پرستی بھی کیا
بھائی جانے نہ اپنے ہی بھائی کا دکھ»

یہاں شاعرہ نے خود کو پکارا ہے۔

اور خود کو پکارنا دراصل خود سے سوال کرنا ہے۔

اپنے دکھ میں اتنا نہ ڈوبو کہ دوسرے کا دکھ بھول جاؤ۔

یہ شعر محبت کے دائرے سے نکل کر انسانیت کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔

عندلیب یہاں صرف عاشقہ نہیں؛

اپنے گریبان میں جھانکتی ہوئی انسان ہے۔

---

محبت کا سایہ

«مری چاہت کے سائے سے وہ باہر جا نہیں سکتا
خفا وہ مجھ سے رہ کر بھی مجھی کو ڈھونڈتا ہو گا»

محبوب خفا ہے، مگر چاہت کا سایہ ساتھ ہے۔

ناراضی فاصلے پیدا کر سکتی ہے، محبت کی کشش ختم نہیں۔

یہ شعر محبت کے اس یقین کی نمائندگی کرتا ہے جو کہتا ہے:

تم جتنا دور جاؤ گے، اپنی ہی تلاش میں مجھے پاؤ گے۔

مگر ہر محبت کو ایسا محبوب کہاں ملتا ہے جو اس کشش کو سمجھ سکے؟

کبھی شہر ہی وفا کا دھوکا نکل آتا ہے۔

---

شہرِ دھوکا

«یہ شہر وفا کا دھوکا ہے، اس شہر میں لوٹے جاؤ گے
تم الفت بانٹتے پھرتے ہو، جب سوچو گے پچھتاؤ گے»

یہاں لہجہ خبردار کرتا ہے۔

محبت بانٹنے والے ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتے۔

ہر شخص محبت کی قدر نہیں جانتا۔

کچھ لوگ خلوص کو کمزوری سمجھتے ہیں اور کچھ دل کو بازار کی چیز۔

سو شاعرہ کا پیغام صاف ہے:

محبت ضرور کرو، مگر آنکھیں کھلی رکھو۔

اور اگر رقیب جلنے لگے تو پھر؟

پھر شاعرہ کے پاس ایک خوب صورت حل موجود ہے۔

---

رقیب! جلتے رہو

«ہم اپنا عہد یوں ہی نبھاتے رہیں سدا
جلتے رہیں رقیب، میں تجھ پر غزل کہوں»

یہاں عذرا کے لہجے میں اچانک شوخی آ جاتی ہے۔

ابھی آنکھ نم تھی، اب لب پر مسکراہٹ ہے۔

رقیب جلتا رہے، شاعرہ غزل کہتی رہے۔

کیا خوب عاشقانہ بے نیازی ہے!

محبت بھی قائم، عہد بھی قائم، غزل بھی قائم!

---

لکیروں کا کھیل

«ہم کو برباد کر گیا آخر
کھیل ہاتھوں کی ان لکیروں کا»

محبوب کو الزام دینے کے بعد تقدیر بھی کٹہرے میں آ گئی۔

ہاتھ کی لکیریں آخر کیا ہیں؟

کبھی انسان انہیں پڑھتا ہے، کبھی ان سے لڑتا ہے، کبھی انہیں اپنی شکست کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

مگر بعض شکستیں شاید کسی ایک شخص کی نہیں ہوتیں؛

قسمت بھی اپنا حصہ ڈالتی ہے۔

---

غمخوار

«ترسو گے کسی حرفِ تسلی کو بھی اک دن
پھر مجھ سی بھی غمخوار کبھی یاد کرو گے»

یہاں شاعرہ کی شکایت میں ایک عجیب سی مٹھاس ہے۔

آج میری قدر نہیں، کل ایک حرفِ تسلی کو ترسو گے۔

اور تب یاد آئے گی وہ جو تمہارے غم کو سمجھتی تھی۔

محبت کا شاید سب سے خوب صورت روپ یہی ہے:

کسی کے دکھ میں اس کے ساتھ بیٹھ جانا۔

---

بازگشت

«دیر تک گونجے گی یوں میری نوا کی بازگشت
ساز چپ ہو جائیں گے، سیلِ صدا رہ جائے گا»

یہاں شاعرہ اپنے فن کی طرف پلٹتی ہیں۔

ساز خاموش ہو جائیں گے، مگر آواز باقی رہے گی۔

یہ شعر جیسے شاعرہ کا اپنے فن سے ایک خاموش عہد ہے:

میں نہ رہوں، میری نوا رہے گی۔

اور شاید یہی اچھی شاعری کی زندگی ہے۔

---

بے نام رشتہ

«قربت کو کوئی پیار کا عنواں نہ مل سکا
بچھڑے تو تذکرے ہوئے ہر اک کتاب میں»

کچھ رشتے زندگی میں نام نہیں پاتے۔

پھر جدائی انہیں کہانی بنا دیتی ہے۔

قربت بے نام رہی، بچھڑنا عنوان بن گیا۔

کتنا عجیب ہے نا؟

جو زندگی میں کہانی نہ بن سکا، وہ یاد میں پوری کتاب بن گیا۔

---

الجھتے گیسو

«ہوا کی سازشوں میں چارہ گر کا ہاتھ ہو تو پھر
کہاں تقدیر کے الجھے ہوئے گیسو سنوارتے ہیں»

تقدیر کے الجھے ہوئے گیسو!

یہ ترکیب اپنے اندر ایک مکمل تصویر رکھتی ہے۔

تقدیر زلف ہے، حالات ہوا ہیں اور انسان چارہ گر۔

مگر اگر ہوا ہی مخالف ہو تو پھر کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے، گیسو کہاں سنورتے ہیں؟

یہاں شاعرہ نے تقدیر کے پیچیدہ فلسفے کو جمالیاتی استعارے میں بدل دیا ہے۔

---

قاتلانہ

«مریضِ عشق تو اپنی ہی جان دے بیٹھا
تمہارا طرزِ تغافل بھی قاتلانہ ہوا»

عشق کا مریض پہلے ہی نازک حال تھا، محبوب کا تغافل قاتل بن گیا۔

بے نیازی کبھی کبھی لفظوں سے زیادہ زخمی کرتی ہے۔

اور یہاں ’’قاتلانہ‘‘ پورے شعر کی شدت اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔

---

پتھر کا سنسار

«بکنے کے لئے دل وہی بازار وہی ہے
پتھر کی طرح ہم وہی، سنسار وہی ہے»

دنیا نہیں بدلی۔

بازار وہی ہے۔

دل وہی ہیں۔

لوگ وہی ہیں۔

بس انسان نے خود کو پتھر کرنا سیکھ لیا ہے۔

یہ پتھر پن شاید بے حسی نہیں؛ مسلسل چوٹوں کے بعد دل کی بنائی ہوئی ڈھال ہے۔

---

بے وفا وعدہ

اور پھر آخرکار وہ شعر آتا ہے جو شاید ’’خواب ریزے‘‘ کی پوری داخلی داستان کو ایک ہی گرہ میں باندھ دیتا ہے:

«ہونے کو یہاں سب کچھ ہو رہا ہے جانِ جاں
ایک تیرا وعدہ ہے جو وفا نہیں ہوتا»

دنیا چل رہی ہے۔

وقت گزر رہا ہے۔

زندگی اپنی جگہ رواں ہے۔

سب کچھ ہو رہا ہے۔

مگر ایک وعدہ نہیں ہو رہا۔

اور کبھی کبھی پوری زندگی کے ہجوم میں صرف ایک نامکمل وعدہ سب سے بڑا دکھ بن جاتا ہے۔

شاید یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب کا عنوان اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

خواب ایک وعدہ تھا۔

محبت ایک وعدہ تھی۔

انتظار ایک وعدہ تھا۔

اور وعدہ وفا نہ ہوا تو—

خواب ریزہ ریزہ ہو گئے۔

---

خواب باقی ہیں

’’خواب ریزے‘‘ کے ان صفحات سے گزرنے کے بعد یہ مجموعہ محض محبت کی شاعری محسوس نہیں ہوتا۔

یہ ایک حساس عورت کی داخلی آواز ہے۔

یہاں نعت ہے تو عقیدت کی روشنی بھی ہے۔

کربلا ہے تو حوصلے کا نور بھی۔

محبت ہے تو اس کی خوشبو بھی۔

ہجر ہے تو اس کی چبھن بھی۔

شکوہ ہے تو اس کی تہذیب بھی۔

خود احتسابی ہے تو انسانیت کا احساس بھی۔

اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا احساس ہے جو شعر ختم ہونے کے بعد بھی قاری کے اندر کچھ دیر تک زندہ رہتا ہے۔

عذرا عندلیب وفا نے اپنے خوابوں کو صرف لکھا نہیں؛

انہیں قاری کے حوالے کر دیا ہے۔

اب یہ خواب صرف ان کے نہیں رہے۔

کسی قاری کو ان میں اپنی محبت مل سکتی ہے۔

کسی کو اپنا ہجر۔

کسی کو کوئی بھولا ہوا وعدہ۔

کسی کو آنکھوں میں ٹھہرا ہوا غم۔

اور کسی کو شاید اپنا ہی کوئی ایسا شعر مل جائے جسے اس نے کبھی لکھا نہیں، مگر پوری زندگی محسوس ضرور کیا۔

شاید اسی لیے اچھی شاعری پڑھ کر ہم اکثر چونک جاتے ہیں:

ارے! یہ تو میرے دل کی بات ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کامیاب ہو جاتا ہے۔

عذرا نے کتاب لکھی ہے۔

مگر شاید اصل میں انہوں نے اپنے دل کی آواز کو دوسروں کے دلوں تک پہنچانے کا راستہ تلاش کیا ہے۔

ابھی ’’خواب ریزے‘‘ کا سفر مکمل نہیں ہوا۔

ابھی بہت سے خواب باقی ہیں۔

کچھ ریزے ابھی اور چمکنے ہیں۔

کچھ زخم ابھی اور بولنے ہیں۔

اور شاید کسی اگلے صفحے پر پھر کوئی ایسا شعر ہمارا انتظار کر رہا ہو جسے پڑھ کر ہم کتاب نہیں، اپنا دل بند کریں گے۔

کیونکہ آخر میں شاعری وہی تو ہے—

جو شاعر کے دل سے نکلے
اور قاری کے دل میں جا بسے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !