پروفیشنل اخلاقیات ۔۔ منصور ندیم

سعودی عرب آنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ پروفیشنل ایتھکس کیا ہوتی ہیں ، تعلقات کیا ہوتے ہیں ۔ 
یہ میں کبھی بھی پاکستان میں رہ کر شاید نہ سمجھ پاتا یا میں شاید جس کلاس سے تعلق رکھتا تھا اس میں یہ کبھی بھی نہیں سمجھ پاتا۔ 

مجھ سے بہت سارے لوگ اس لیے ناراض ہوتے ہیں کہ وہ ان باکس میں آتے ہیں اور سعودی عرب کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں معلومات لینا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس اتنی محدود بات ہوتی ہے اور ان کا سوال کم از کم ادھے گھنٹے کی گفتگو سے قبل ناقابل حل ہوتا ہے میں انہیں ایک جملے میں جواب نہیں دے سکتا، اور مزید یہ کہ ان کا تقاضا سب سے پہلے یہ ہوتا ہے کہ انہیں میرا موبائل نمبر یا واٹس ایپ نمبر چاہیے ہوتا ہے۔ 

شروع میں ایسے چند لوگوں کو نمبر بھی دے دیتا تو وہ کبھی بات نہیں کرتے تھے بلکہ بعد میں فون کرنے کا کہتے تھے، اب اکثر کئی لوگ اگر مجھے میسج کرتے ہیں تو میں انہیں یہ ضرور کہتا ہوں کہ میسنجر پر کال کر کے بات کر لیں اور 80 فیصد لوگ میسنجر پر بات نہیں کرتے بلکہ صرف میسج کرتے ہیں میں انہیں اپنی طرف سے کوشش کرتا ہوں کہ انہیں تسلی بخش جواب دے سکوں ( مگر عمومی طور پر یہ ناممکن سی بات ہوتی ہے کہ وہ یہ بات سمجھ بھی پائیں). 
میرے پاکستان میں رہنے والے چند دوست احباب مجھ سے اس عرصے میں ناراض ہوئے، یہ شاید سنہء 2013 کی بات ہے، ایک اچھے دوست جو سعودی عرب میں آئے ہوئے تھے اور بے روزگار تھے انہیں میں نے دمام بلایا، میرے ساتھ وہ تین چار دن رکے لیکن بعد میں وہ ناراض رہے اور انہوں نے کئی لوگوں سے گلہ کیا کہ پہلے روز ہی صبح انہوں نے مجھے اٹھایا اور اپنے ساتھ اپنے دفتر لے گئے اور کافی دیر بعد ناشتہ کروایا۔ یہ سچ ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا تھا کیونکہ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا میں صبح انہیں اٹھا کے کسی ریسٹوران میں لے جا کر اچھا سا ناشتہ نہیں کروا سکتا تھا اچھا سا ناشتہ کروانے کا مسئلہ یہ نہیں کہ میرے پاس پیسے نہیں تھے بلکہ میرے پاس وقت نہیں تھا اور یہ بات شاید وہ سمجھنے سے قاصر تھے میں نے انہیں بہت اچھے مہنگے ریستورانوں میں کھانا کھلایا لیکن اپنا ٹائم مینج کر کے ہی سب کیا۔ 

میں کچھ چیزیں بتاتا ہوں شاید ہم سمجھ سکے میں بھی پہلے نہیں سمجھ سکا تھا، یہ بھی ابتدائی دنوں کی بات ہے کہ ایک ریاض کی ایک بڑی کیمیکل فیکٹری جو نئی کھلی تھی ، میں نے فون پر رابطہ کیا ہم نے کچھ کانٹیکٹ کیے اور اس کے بعد جب میں اسے فالو کر رہا تھا تو ایک دن صبح آٹھ بجے میں نے وہاں پر اس کے مینیجر کو جو اردنی تھا، تین یا چار بار لگاتار فون کئے، ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد اس نے مجھے فون کیا اور بہت غصہ کیا اس نے کہا کہ تمہیں سمجھ نہیں ایا کہ جب میں نے ایک بار فون نہیں اٹھایا تو تمہیں دوسری بار فون نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ بات اس کی بالکل درست تھی یہ بات میں اس وقت تک نہیں جانتا تھا۔ بعد میں ہمارے بہت اچھے تعلق رہے ہیں میں نے اس کے ساتھ میوچل بنیادوں پر اس کی کمپنی ہے اور ہماری کمپنی کے درمیان کافی بزنس کیا۔ 

کچھ دن پہلے میں اپنے آفس کے مصری اکاؤنٹنٹ کے کمرے میں گیا اور میں وہاں پر بیٹھ گیا، میں نے چائے والے لڑکے سے کہا ہوا تھا کہ میرے لیے چائے بنا دے اس نے چائے بنائی اور سیدھا مصری اکاؤنٹنٹ کی ٹیبل پر لے آیا، مصری اکاؤنٹنٹ اس کمپنی میں صرف تین سال پہلے ایا اور میرا یہ اٹھارواں سال چل رہا ہے، یعنی میں 15 سال سے زائد کمپنی میں اس سے سینیر بھی ہوں اور تنخواہ اور عہدے کے اعتبار سے اسے بہتر حالت میں بھی ہوں۔ لیکن یہ کمرہ اور وہ ٹیبل اس کی تھی۔ اس نے چائے پیش کرنے والے لڑکے سے کہا میری ٹیبل پر چائے نہیں رکھنا، میں نے یہاں پر میٹنگ روم نہیں کھولا ہوا ، اب وہ لڑکا میری طرف دیکھنے لگا میں نے اسے کہا کہ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے تم چاہے میری ٹیبل پر جا کر رکھ دو۔ میں یہاں سے فری ہو کر اپنی ٹیبل پر آ کر چائے پیوں گا۔ 

وہ لڑکا تھوڑی دیر کے بعد میری ٹیبل پر آیا اور مجھے کہنے لگا کہ یہ مصری اکاؤنٹنٹ کی بہت بدتمیزی ہے میں نے کہا کہ بالکل نہیں، وہ ایک انتہائی ایماندار اور اپنے کام سے مخلص آدمی ہیں وہ اس وقت کام میں مصروف تھا، میں جو کام سے کہہ رہا تھا وہ اس میں بالکل تعاون کر رہا تھا، وہ ٹیبل اس کی تھی اور وہ اپنے سکون کے ساتھ ادھر کام کرنا چاہتا تھا وہ یہاں پر چائے کی محفل کو قبول نہیں کرنا چاہتا تو یہ اس کا حق تھا یہ اس کا پروفیشنل ایتھیکل حق ہے جسے ہم چیلنج نہیں کر سکتے اور اگر ہم اس طرح کی کوئی حرکت کرتے ہیں تو یہ ہمارا گھٹیا رویہ ہوتا۔ 

قریب 10 سال پہلے ایک اور صاحب پاکستان سے سعودی عرب میں ائے اور ریاض کی ایک بڑی کیمیکل فیکٹری کو انہوں نے جوائن کیا، اس کیمیکل کمپنی سے اسی پوسٹ کے لیے مجھے بھی آفر ائی تھی جسے میں نے اس جاب میں رہتے ہوئے منع کر دیا تھا۔ ان صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا ان کی جو مین پروڈکٹس تھی ان دنوں ان کی مارکیٹ میں ویلیو بہت کمزور تھی، اس نے مجھے کہا کہ میں ایسٹرن ریجن میں آ کر کام کرنا چاہتا ہوں میں نے اسے کہا ویلکم جب آنا ہو مجھے کال کر دینا۔ وہ صاحب ایسٹرن ریجن میں آئے میں نے انہیں وہ مارکیٹ بھی دکھائی جس میں ہم خود کام کرتے ہیں۔ یعنی وہ میرے لیے انہی پروڈکٹس میں کمپیٹیٹر تھا لیکن میں نے اسے وہ ساری مارکیٹ گھمائی بلکہ لوگوں سے ملوایا بھی، ہماری اچھی دوستی ہو گئی۔ 

کچھ عرصہ یہاں رہا اس نے آرامکو سے کانٹریکٹ بنایا ، وہ کمپنی کے لیے ایسٹرن ریجن کا ایک ویلیو ایبل سیلز مین بن گیا۔ اب ایسٹرن ریجن میں یہ وہ بندہ تھا جو ورک فرام ہوم کرتا تھا اپنی مرضی سے وزٹ کرتا تھا، ارڈرز بک کرتا تھا میری جاب بھی مرضی کی ہوتی تھی ہم جب چاہے آفس سے نکل سکتے ہیں ہم اکثر تین چار دوست اکٹھے ہو کر جو اسی پروفیشن میں تھے اکثر ایک دوسرے کے اوپر زبردستی لنچ ڈالتے تھے اور کسی جگہ لنچ کرتے تھے یہ ہمیشہ ان دنوں ہوتا تھا جب میری فیملی پاکستان گئی ہوئی ہوتی تھی۔ اس بندے کے ساتھ ہم نے بہت اچھا وقت گزارا یعنی کسی ہوٹل میں بیٹھ کر 10د 20 ریال پر بھی زبردستی ایک دوسرے سے بل دلوائے جاتے تھے۔

پھر ہوا یوں کہ تین سال پہلے اس کمپنی کے مالک نے جنرل مینجر کو اچانک کسی وجہ سے نکال دیا، اور ہمارے اس دوست کو فوری کال کی گئی اپنی سییناتٹی کی وجہ سے اسے ڈائریکٹ جنرل مینجر کے عہدے پر پروموٹ کیا گیا، اس کی تنخواہ میں یک لک تین گنا اضافہ ہوا یعنی پاکستانی حساب سے وہ تنخواہ ملینز کے دہرے دائرے میں چلی گئی، اس کے انسنٹو بھی بڑے بھرپور ہوئے اس کے بچے اس وقت امریکن اسکول میں اس کی ساری ٹوریں بالکل ڈفرنٹ ہو گئی۔ اب سارا معاملہ صرف ٹور بن جانے کا نہیں ہوتا۔ اس کا بیک گراؤنڈ کیمیکل انجینیئرنگ سے ہے، اس کی انفارمیشن بہترین ہے وہ لوکل مارکیٹ کو بہترین جانتا ہے وہ پروڈکٹس کو جانتا ہے وہ اس قابل تھا کہ اسے مینیجر بنایا جائے۔ 

اب ان تین چار سالوں میں معاملہ یہ ہو گیا کہ چند ایک بار میں نے شاید اس کو کبھی فون کیا ہوگا، ان تین چار سالوں میں جب بھی مجھے اس سے آفیشل رابطہ کرنا پڑا تو کمپنی ای میل سے وہ یا میں ایک دوسرے سے رابطہ کرتے، ہماری انکوائری ایک دوسرے کو جنریٹ ہوتی، اور اس کی سیلز ٹیم یا اس کے کوارڈینیٹر ان لائن میٹنگ ٹائم طے کرتے ہیں اور ہم باضابطہ اسکائپ وغیرہ پر پروفیشنل وے میں ویڈیو میٹنگز کرتے۔ وہی بات ہم پانچ منٹ میں فون پر بھی طے کر سکتے تھے۔ 

ابھی پچھلے دنوں لوکل ایسٹرن ریجن میں ہمیں ان پروڈکٹس میں پرابلم ہوئی جن پروڈکٹس میں وہ ڈیل کرتے ہیں، میں نے اسے ایک فون کیا میں نے اسے کہا کہ مجھے اس میں کیا ہیلپ کر سکتے ہو اس نے مجھے کہا ٹھیک ہے میں اس میں تمہیں سپورٹ کروں گا، اس کے بعد مجھے کہا کہ آفیشل ایمیل کرو میں نے آفیشل میل کی اس نے ایمیل کا جواب دینے کی بجائے، اس کے کوارڈینیٹر اور سیل ٹیم نے مجھ سے رابطہ کیا اور ہمارے درمیان میں جو ڈیل طے ہوئی اس کی قیمت مارکیٹ کے اعتبار سے بہت زیادہ تھی لیکن میرے لیے اس وقت وہ زیادہ قیمت بھی ویلیوایبل تھی کیونکہ ہم نے پھر بھی مناسب مارجن رکھ کر اس پروڈکٹ کو بوقت ضرورت دستیاب کر لیا تھا۔ اس نے مجھے کافی مہنگا بیچا لیکن اصولی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے سپورٹ کیا تھا۔ 

اس ڈیل کے ایک ہفتے کے بعد آج سے چار پانچ دن پہلے میں نے اسے ایک بار پھر فون کر دیا، اس نے میرا فون ریسیو نہیں کیا۔ آدھے گھنٹے کے بعد میں نے اسے دوبارہ فون کر دیا، اس نے میرا فون اٹھایا اور تھوڑا تلخ لہجے میں کہا کہ منصور بھائی یار اگر میں آپ کا فون نہیں اٹھا رہا تو آپ اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ بندہ مصروف ہوگا۔ میں نے اسی لمحے اس سے معذرت کی اور میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اٹس اوکے آپ اپنی میٹنگ کنٹینیو کریں ہم بعد میں بات کریں گے۔ 
میں نے اپنا مدعا اسے واٹس ایپ پر میسج کر دیا۔ 

وہی ہمارے آفس میں چائے بنانے والا لڑکا میرے پاس بیٹھا ہوا تھا، قریب دو گھنٹے کے بعد اسی دوست کی کال آئی، اس نے مجھے سلام کے فورا بعد کہا منصور بھائی برا مت مانیے گا مگر میری بات سن لیں میں نے کہا بالکل حضور فرمائیے، اس نے کہا کہ اپ کو اندازہ بھی ہے کہ میں اج جس پوسٹ پر جاب کر رہا ہوں اس میں میں اس طرح فون کالز بالکل نہیں لے سکتا اور ایک آدمی اگر آپ کو پھر بھی وقت دے رہا ہے تو آپ کو خیال رکھنا چاہیے میں نے فورا معذرت کی میں نے کہا میں بالکل بہت ساری چیزوں کے ساتھ الجھا ہوا تھا اور میں نے تمہیں دوبارہ کال کر دی جو مجھے یقینا نہیں کرنی چاہیے تھی، اس نے اگلے جملے میں کہا کہ آپ کو کوئی بھی کام ہو میری سیلز ٹیم یا کوارڈینیٹر سے بات کریں اگر وہ لوگ اپ سے تعاون نہیں کرتے تو پھر مجھ سے بات کریں، ورنہ میں ہر سیل اور ہر چیز کو اکیلا فالو نہیں کر سکتا۔ 

چائے والا لڑکا مجھے حیرت سے دیکھ رہا تھا، میں نے اسے دوبارہ معذرت کی، اور میرا معذرت کرنا بنتا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس وقت اتنی انسرٹین کنڈیشن میں اگلے ہفتے کی پروڈکشن اور را مٹیریل کی کاسٹنگ کر رہا تھا یہ انتہائی اہم میٹنگ تھی جس پر ہمارا اگلا ہفتہ چلنا تھا اور ہر ہفتے ہم چار گھنٹے کی یہ میٹنگ کرتے ہیں جس پر ہماری پوری فیکٹری چلتی ہے میں اس دوران کسی کال نہیں لے سکتا اور میں سیلز کی کالج لے نہیں لے سکتا کہ میں نے اوور ال پوری مینجمنٹ کو کنٹرول کرنے میں یہ چھوٹی چھوٹی کالز نہیں لے سکتا۔

اب بتائیں جو بندہ ہم سے 10 یا 15 ریال اس کے کھانے کی چیزوں پر ہم سے دوستی میں بحث کر لیتا تھا وہ آج کس پوسٹ پر ہے تو ہم لوگوں کو یہ کہیں کہ اس حوالے سے زیادتی کی بالکل بھی نہیں۔۔۔وہ بالکل درست کہہ رہا تھا اس کی جاب اور اس کی ذمہ داریاں اس جاب کے ساتھ یہی تقاضہ کرتی تھی کہ وہ ہر ایک کو جواب نہیں دے سکتا۔ ورکنگ افرز میں اس کو جتنی تنخواہ ملتی ہے وہ پوری ایک فیکٹری کی مینجمنٹ کو کنٹرول کرنے کے بدلے میں ملتی ہے جس کا اس نے حق ادا کرنا ہے۔ میں ان بے وقوفوں کی طرح اس سے ناراض نہیں ہو سکتا تھا جو یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ کوئی شخص کتنی مصروفیت میں ہوتا ہے اس کے لیے کیا چیزیں کتنی اہم ہوتی ہیں اس کی دوستی میرے ساتھ بہت اچھی ہو سکتی ہے یا ہو سکتی تھی۔ لیکن اج جن چیزوں کے ساتھ وہ اپنی مصروفیت کو نبھا رہا ہے وہ اس میں مجھے اس طرح وقت نہیں دے سکتا۔ 

ممکن ہے میں ذاتی حیثیت میں اس کو ڈیوٹی ٹائم کے بعد کال کروں وہ مجھ سے اسی طرح پرانی دوستی کی کیفیت میں بات کرے گا۔ لیکن پروفیشنل ڈیلنگز واقعی پروفیشنل ڈیلنگ ہی ہوتی ہیں 

یہ بات شاید میں بہت سارے لوگوں کو کبھی نہیں سمجھا پایا، اب میں اکثر غصے سے اور اکثر کچھ لوگوں کو بہت بدتہذیبی سے سمجھاتا ہوں اور وہ یہ بات سمجھنے کے بجائے ہمیشہ ناراض ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارا چائے بنانے والا لڑکا کہہ رہا تھا، آپ تو کہہ رہے تھے یہ میرا دوست ہے یہ اپ سے کیسے بات کر رہا ہے میں نے کہا کہ وہ بالکل درست بات کر رہا ہے وہ میرا دوست کسی اور جگہ ہے، اس کاروباری ڈیلنگ اور اس کاروباری ذمہ داری کے ساتھ وہ مجھ سے دوستی نئی نبھا سکتا۔ جیسے اس نے کہا کہ یہ مصری اکاؤنٹنٹ کیسے بدتمیزی سے بات کر رہا تھا۔ تب بھی میں نے اسے یہی سمجھایا تھا کہ مصری اکاؤنٹنٹ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ٹیبل پر کسی کو چائے پینے اور گپیں لڑانے کے لیے اسپیس نہیں دے، وہ انتہائی ایماندار آدمی ہے اور وہ اپنے کام کو انتہائی مخلص ہو کر کر رہا ہے وہ کسی قسم کی انٹرپشن کو قبول نہیں کر سکتا۔ 

کیا ہمارے عام پاکستانی یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ کسی شخص کو کسی بھی وقت کال کر دی جائے، خصوصا سوشل میڈیا کے میسنجرز پر ڈائریکٹ کال کرنا عجیب و غریب سوال کرنا اور یہ سمجھنا کہ اپ کو فوری جواب دیا جائے اور ان لوگوں سے بات کرنا جنہیں اب بالکل نہیں جانتے اور ان سے اپ عجیب و غریب تقاضے کریں۔ 

سوچیں کیا ہم اپنے اندر اتنی پروفیشنل اخلاقیات لا سکتے ہیں؟ 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !