سہلِ ممتنع اردو شاعری کا ایسا فنی وصف ہے جس میں اظہار بظاہر نہایت سادہ، رواں، بے تکلف اور روزمرہ کے قریب محسوس ہوتا ہے، مگر اسی خیال کو اسی سادگی، برجستگی اور شعری تاثیر کے ساتھ دوبارہ ادا کرنا آسان نہیں رہتا۔ اس اسلوب میں لفظ مشکل نہیں ہوتا، ترکیب ثقیل نہیں ہوتی اور اظہار پر صناعی کا بوجھ محسوس نہیں ہوتا؛ اصل کمال یہ ہے کہ شاعر عام لفظوں میں غیر معمولی شعری تجربہ پیدا کر دیتا ہے۔
افضل خان کی کتاب وہیں ملوں گا تجھے کا مطالعہ کرتے ہوئے سہلِ ممتنع ان کے شعری اسلوب کا ایک نمایاں وصف بن کر سامنے آتا ہے۔ تاہم ان کے ہاں سادہ اظہار ہمیشہ اختصار کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ بعض مقامات پر شاعر تکرار، مکالمے، توضیح، صوتی مناسبت، محاوراتی پھیلاؤ اور اضافی لفظی حرکت کے ذریعے شعر کی معنوی یا صوتی فضا کو وسیع کرتا ہے۔ یوں ان کے شعری مزاج میں ایک طرف سہلِ ممتنع ہے اور دوسری طرف اسلوبی پھیلاؤ۔
یہ دونوں جہتیں الگ الگ دیکھنے سے افضل خان کی شعری شخصیت زیادہ واضح ہوتی ہے۔
پہلا حصہ
سہلِ ممتنع
افضل خان کے ہاں سہلِ ممتنع کا بنیادی سرچشمہ روزمرہ زبان پر گرفت، محاورے کی برجستگی اور عام لفظوں سے غیر معمولی معنی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ وہ مشکل الفاظ یا ثقیل تراکیب کے بجائے ایسی زبان اختیار کرتے ہیں جو قاری کو پہلی قرأت میں مانوس اور بے تکلف محسوس ہوتی ہے، لیکن شعر پر دوبارہ غور کرنے سے اس کے اندر چھپی ہوئی معنوی تہیں سامنے آتی ہیں۔
یہی سہلِ ممتنع کا بنیادی وصف ہے کہ شعر پڑھنے میں آسان اور کہنے میں مشکل محسوس ہو۔
افضل خان کے اس شعری رویے کو ان کے اس شعر سے سمجھا جا سکتا ہے:
ایسا بھی نہیں ہے کہ دہائی نہیں دیتا
میں شور مچاتا ہوں سنائی نہیں دیتا
دونوں مصرعوں میں کوئی مشکل لفظ نہیں۔ دہائی دینا، شور مچانا، سنائی دینا روزمرہ کے مانوس الفاظ ہیں۔ مگر شاعر نے انہی عام الفاظ کے ذریعے ایک ایسی داخلی کیفیت پیدا کی ہے جس میں بولنے والا اپنی پوری شدت کے باوجود دوسروں تک نہیں پہنچ پا رہا۔ دہائی سے شور اور پھر سنائی نہ دینے تک ایک معنوی تضاد پیدا ہوتا ہے۔ آواز بڑھتی جاتی ہے، مگر سماعت تک رسائی ختم ہوتی جاتی ہے۔
یہی سادگی کے اندر پیچیدگی ہے اور یہی سہلِ ممتنع کی اصل قوت ہے۔
اسی نوعیت کا ایک اور شعر ہے:
کچھ بھی نہ سہی، ضبط کی تضحیک تو ہے نا
پوچھے جو کوئی ہم سے کہ سب ٹھیک تو ہے نا
یہاں "سب ٹھیک تو ہے نا" روزمرہ کا ایک معمولی سوال ہے۔ لیکن پہلے مصرعے کے ساتھ آنے کے بعد یہی معمولی جملہ داخلی بے یقینی اور جذباتی شکست کا اظہار بن جاتا ہے۔ شاعر نے اپنی کیفیت بیان کرنے کے لیے کسی پیچیدہ استعارے یا مشکل علامت کا سہارا نہیں لیا؛ محض ایک عام مکالماتی جملے کو شعری سیاق دے کر اس میں نفسیاتی معنویت پیدا کر دی۔
افضل خان کے ہاں سہلِ ممتنع کی ایک اہم صورت مانوس محاورے کو نئے معنوی سیاق میں استعمال کرنا بھی ہے:
یاد آیا تری زلفوں میں الجھ کر اک دن
میں تو ترجیح دیا کرتا تھا آزادی کو
زلفوں میں الجھنا اردو غزل کی نہایت مانوس عشقیہ ترکیب ہے، مگر شاعر اسے آزادی کے تصور کے ساتھ ملا کر ایک نیا طنزیہ اور فکری رشتہ پیدا کرتا ہے۔ محبوب کی زلفیں صرف حسن کی علامت نہیں رہتیں بلکہ آزادی کے مقابل ایک ایسی وابستگی بن جاتی ہیں جس میں عاشق اپنی سابقہ خودمختاری بھول جاتا ہے۔
یہاں کمال لفظوں کی پیچیدگی میں نہیں بلکہ مانوس لفظوں کے نئے باہمی تعلق میں ہے۔
اسی طرح:
ہجر کے بیمار کو اس سے ہو کافی اور کیا
اآپ نے کہہ تو دیا اللہ شافی، اور کیا
اس شعر میں کافی اور شافی کا صوتی رشتہ نہایت سادہ مگر مؤثر ہے۔ شاعر کسی پیچیدہ صنعت کا مظاہرہ نہیں کرتا بلکہ دو عام الفاظ کے صوتی تقابل سے ایک طنزیہ کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اللہ شافی ایک معروف دعائیہ ترکیب ہے، مگر کافی اور کیا کے ساتھ آنے پر اس میں ایک ہلکی سی بے بسی اور طنزیہ مسکراہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔
افضل خان کی سہل گوئی کا ایک اور نمایاں پہلو مکالماتی انداز ہے:
کیا اُس کو محبت میں گرفتار کریں ہم
کنگن کو بھی جو اپنی کلائی نہیں دیتا
یہاں شعر سوال سے شروع ہوتا ہے۔ کیا اُس کو محبت میں گرفتار کریں ہم روزمرہ گفتگو کے قریب ایک جملہ ہے، مگر دوسرے مصرعے میں کنگن اور کلائی کا تعلق شعر کو برجستہ طنزیہ کیفیت عطا کرتا ہے۔ شاعر نے کسی پیچیدہ فلسفیانہ استدلال کے بجائے ایک عام سی بات سے محبت کی پیچیدگی بیان کر دی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سادگی، برجستگی اور طنز ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔
افضل خان کے ہاں سہلِ ممتنع صرف رومانوی تجربے تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی شعور میں بھی اپنا اظہار کرتا ہے:
میرے حاکم نے معیشت پہ توجہ دی ہے
یہی کافی ہے مرے شہر کی بربادی کو
(افضل
پہلا مصرع بظاہر حکومتی کارکردگی کا اعتراف ہے، مگر دوسرا مصرع پورے بیان کا رخ بدل دیتا ہے۔ یہی کافی ہے بظاہر اطمینان کا جملہ ہے، لیکن یہاں یہی الفاظ شدید طنز میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ شاعر نے سیاسی شعور کو کسی مشکل سیاسی اصطلاح کے ذریعے نہیں بلکہ روزمرہ کے سادہ جملے میں سمو دیا ہے۔
اسی طرح:
شہر کے وسط میں اس چلہ کشی پر لعنت
ایک بھی شخص نے پوچھا نہیں کیوں بیٹھا ہوں
یہاں کیوں بیٹھا ہوں بظاہر ایک سادہ سوال ہے، لیکن اس کے پس منظر میں اجتماعی بے حسی، تنہائی اور فرد کی بے معنویت کا پورا احساس موجود ہے۔ شعر کی تاثیر مشکل لفظوں سے نہیں بلکہ سادہ سوال کی تہہ میں موجود اضطراب سے پیدا ہوتی ہے۔
افضل خان کی شاعری میں خود کلامی بھی اسی سادہ لہجے میں سامنے آتی ہے:
میں رائگانی بھی لکھوں تو رائگاں نہ سمجھ
مری غزل کو مرا حلفیہ بیاں نہ سمجھ
یہاں رائگانی، رائگاں، حلفیہ بیان جیسے الفاظ نسبتاً مانوس ہیں، مگر ان کے باہمی تعلق سے شاعر اپنی شاعری اور اپنی ذات کے درمیان ایک دلچسپ فاصلہ قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے شعر کو اپنی زندگی کا مکمل اعتراف قرار دینے سے گریز کرتا ہے۔ یوں ایک سادہ بیانیہ خود شعری عمل پر سوال بن جاتا ہے۔
سہلِ ممتنع کی ایک اور صورت عام گفتگو کو شعری مکالمے میں تبدیل کرنا ہے:
چلو ان واعظوں کو اپنی مجبوری بتاتے ہیںکسی کے قرب کو جو دین سے دوری بتاتے ہیں
یہاں چلو محض ایک لفظ نہیں؛ یہ شعر کو حرکت دیتا ہے اور قاری کو ایک جاری مکالمے میں داخل کرتا ہے۔ شاعر کسی نظریے کا خشک بیان نہیں کرتا بلکہ مخاطب کے ساتھ چلتے ہوئے بات کرنے کا تاثر پیدا کرتا ہے۔
اسی سلسلے میں:
بہت سے کام دنیا کے ادھورے ہیں جنھیں ہم تم
رضاکارانہ کرتے ہیں نہ مزدوری بتاتے ہیں
عام بول چال کے قریب الفاظ یہاں ایک گہری سماجی طنز پیدا کرتے ہیں۔ رضاکارانہ اور مزدوری کے درمیان قائم تضاد اس شعر کو محض روزمرہ کا جملہ نہیں رہنے دیتا۔ شاعر استحصال اور انسانی مجبوری کو ایک ایسے لہجے میں بیان کرتا ہے جس میں طنز بھی ہے اور بے بسی بھی۔
افضل خان کے ہاں سادگی اور صوتی برجستگی بھی ایک دوسرے سے مربوط ہیں:
سرسری میرا زخم جانچ اور بس
اک ذرا سا چبھا ہے کانچ، اور بس
یہاں سرسری، زخم، جانچ، ذرا، چبھا، کانچ جیسے الفاظ صوتی سطح پر ایک خاص ربط پیدا کرتے ہیں۔ شعر بظاہر بہت سادہ ہے، مگر آوازوں کا باہمی کھیل اس میں ایک داخلی موسیقیت پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح:
کس قدر کم ہیں آدمی کے حواس
ایک دو تین چار پانچ اور بس
یہ شعر بھی سہلِ ممتنع کی ظریفانہ صورت سامنے لاتا ہے۔ ایک دو تین چار پانچ کا شمار بظاہر غیر شعری معلوم ہوسکتا ہے، لیکن شاعر اسی عام اور بچوں کے سے شمار کو انسانی حواس کی قلت کے طنزیہ اظہار میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہاں شعر کی تازگی غیر متوقع سادگی سے پیدا ہوتی ہے۔
افضل خان کے ہاں سہلِ ممتنع کی ایک اہم جہت محاوراتی زبان کو فکری مفہوم دینا بھی ہے:
مدحِ جاناں کے لیے ہجر ضروری ہے مجھے
میں جدا ہو کے ملاتا ہوں قلابہ اچھا
یہاں جدا ہو کے ملانا ایک متضاد کیفیت پیدا کرتا ہے۔ شاعر محبت کے روایتی تجربے کو ایک ایسے محاوراتی انداز میں بیان کرتا ہے جس میں طنز اور خود آگاہی دونوں شامل ہیں۔
اسی طرح:
جس جگہ جا کے لگے شور شرابا اچھا
شہر میں اک بھی نہیں چائے کا ڈھابہ اچھا
یہ شعر شہری زندگی کے ایک معمولی سے منظر کو شعری تجربے میں تبدیل کرتا ہے۔ شور شرابا، شہر، چائے کا ڈھابہ سب روزمرہ کے الفاظ ہیں، لیکن ان کا باہمی ربط ایک ایسے شہری منظرنامے کو سامنے لاتا ہے جس میں مانوسیت کی تلاش اور شہری بےگانگی دونوں موجود ہیں۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ سہلِ ممتنع کا مطلب صرف آسان الفاظ استعمال کرنا نہیں۔ اگر آسان لفظوں کا مجموعہ محض نثری اطلاع بن جائے تو وہ شعر سہلِ ممتنع نہیں بنتا۔ سہلِ ممتنع وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عام لفظ اپنے معمول کے استعمال سے آگے بڑھ کر ایک ایسی کیفیت، معنی یا تاثیر پیدا کرے جسے اسی سادگی سے دوبارہ کہنا دشوار ہوجائے۔
افضل خان کے ہاں یہ وصف کئی سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے: کہیں طنز کے ذریعے، کہیں مکالمے کے ذریعے، کہیں محاورے کے نئے استعمال سے اور کہیں روزمرہ کی زبان میں اچانک معنوی الٹ پھیر پیدا کرکے۔
اسی لیے وہیں ملوں گا تجھے کے تناظر میں افضل خان کے سہلِ ممتنع کو سادہ گوئی کے برابر رکھنا مناسب نہیں۔ ان کی سادگی کے اندر ایک شعوری فنی ترتیب موجود ہے۔ وہ لفظ کو مشکل بنائے بغیر معنی کو مشکل، تہہ دار اور بعض اوقات طنزیہ بنا دیتے ہیں۔
یوں افضل خان کے ہاں سہلِ ممتنع کی بنیادی خصوصیت یہ قرار پاتی ہے کہ شعر کا لفظی لباس عام فہم ہے، مگر اس کے اندر موجود تجربہ عام فہم سطح سے آگے نکل جاتا ہے۔
یہی وہ فنی نکتہ ہے جہاں وہیں ملوں گا تجھے کی شاعری محض سہل زبان سے آگے بڑھ کر سہلِ ممتنع کی شعری سطح تک پہنچتی ہے۔
