آفتاب عارض، جو شعر کہتا ہے۔۔ رانا عمر فاروق

 "ربط" کا خالق آفتاب عارض شاعر ہے۔ ایک اچھوتا شاعر جس کا حوالہ صرف شعر ہے۔ اس کے خیال ہے ، خیال آفرینی ہے۔ شعر کہنے کا وفور ہے۔ غزل کہتا ہے۔ نظم لکھتا ہے۔ اگر کسی محفل میں اس کا تعارف کروانا ہو تو آپ اسے بطور شاعر ہی متعارف کرواسکتے ہیں اور یہ حوالہ اسے کافی ہے۔ اس کے باوجود دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ شعر فروش نہیں ہے یعنی شاعری سے آفتاب کی روزی روٹی نہیں جڑی ۔ پروفیشن کے لحاظ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، یونیسیف اور یونیسکو جیسے عالمی اداروں سے جڑی این جی اوز میں بطور ماسٹر ٹرینر اور پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ایک وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ اپنی زمین اور اپنے لوگوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس لئے اس کے پاس جو شعری منظر نامہ ہے وہ محض خیالی نہیں ہے۔ اس کا اپنا کینوس ہے اور اپنے ہی رنگ ہیں۔ اس کا شعری منظر نامہ اس کے ارد گرد سانس لیتا ہے۔ اس کی زمینوں میں قحط ہے ، فاقہ ہے ، جبر و استبداد ہے،۔ اس کے دریائوں میں جب سیلاب آ کر گزر جاتے ہیں تو احساس ، مروت اور محبت کی لازوال داستانیں لکھی جاتی ہیں۔ آفتاب عارض کا شعر روایت سے جڑا ہوا ہے۔ تلازمہ جدید ہے ، اور استعارہ زندہ و جاوید ۔ تازہ اور جدید شعر کہتا ہے لیکن جدید ہونے کی دھن میں زبان کے ساتھ کے تقدس کو پامال نہیں کرتا۔ نہ تو فارسی کی موٹی اصطلاحات برتتا ہے اور نہ ہی انگریزی الفاظ کو شعر میں کھپا کر زباندانی کا رعب شعر پر جھاڑتا ہے۔ نہ اسے جدا دکھنے کا خبط ہے نہ کسی اور کے رنگ میں رنگنے کی حرص۔ ادبی دھماچوکڑیوں سے دور اپنی ہی دنیا میں جیتا ہے اور شعر کہتا ہے
آفتاب عارض جس زبان میں شعر کہتا ہے وہ اسے سیکھنا نہیں پڑی۔ یہ زبان اسے ماں کی لوری میں ہی مل گئی۔ عام آدمی جو زبان بولتا ہے آفتاب عارض اسی میں شعر کہتا ہے۔ اس کے شعر کو سمجھ کے لئے قاری کو کسی لغت کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ اس کی شاعری میں تجربات نہیں ہیں۔ سادہ اور سلیس شعر کہتا ہے۔ اس کا تجربہ ہے ، مشاہدہ ہے اور ان دونوں سے استدلال ہے۔ کہیں تو آپ بیتی کو جگ بیتی بنا کر پیش کرتا ہے اور کہیں جگ بیتی کو آپ بیتی۔ اس کی شاعری صرف شاعری ہے۔ نہ پند و نصائح کے باب ہیں نہ صحافیانہ مخبری۔ اس کی شعری لفظیات غزل کی لفظیات ہے۔ بازاری چھچھورا پن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اس کے شعر میں ہجر و وصال ہے تڑپ ہے۔ عشق کی تپش میں جلتے ہوئے احساسات ہیں اور نارسائی کی برف سے سرد ہوتے ہوئے جذبات ہیں۔ اس کے شعر میں محبوب ہے ، اس کی ادائیں ہیں ، ان ادائوں سے گھائل اس کا دل ہے۔
اس کی شاعری میں بیٹی ہے جو اسے زندگی کا درس پڑھاتی ہے۔ ماں ہے جس کے لمس کو اس کی پیشانی ترس گئی ہے۔ باپ ہے جسے یہ مٹی کےحوالے کرچکا ہے اور کچھ پھول ہیں جنہیں اس نے دریا میں بہادیا ہے تاکہ انہیں کوئی اپنے پیروں تلے نہ روند سکے جیسے اس کا دل روند دیا گیا ہے۔ اور کچھ اکھڑتی ہوئی سانسیں ہیں جنہیں وہ ایک ربط میں رکھنا چاہتا ہے۔ آپ آفتاب عارض سے ملنا چاہتے ہیں تو ربط کے توسط سے مل سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے تھوڑا تلخ لگے ، اتنا سا تلخ جتنا سچ کو ہونا چاہیے لیکن اس بات کی ضمانت ہے کہ آپ اس سے مل کر مایوس نہیں ہوں۔
ایک مختصر سی ملاقات کا اہتمام ربط سے انتخاب کی صورت میں کیے دیتا ہوں

خود سے ٹکرائے سر کو پٹختے رہے کھڑکیوں کی طرح
ہم کہ آباد ہوکر اجڑتے رہے بستیوں کی طرح 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

دریا کی تصویر میں بھی طغیانی ہے
اس دیوار کے اندر کتنا پانی ہے

یوں بھی تیرا کونسا پہلا دکھ ہوں میں
میری کونسی پہلی نقل مکانی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کے پاس اگر دکھ نہیں ہے رونے کو
وہ میرے شعر پڑھے ان سے استفادہ کرے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا اپنا تجربہ ہے اپنی اپنی رائے ہے
میرے کہنے سے کوئی اچھا برا بنتا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹن سے مرنے لگے ہیں ہم ان مکانوں میں
خدا ہمارے مقابر کو کچھ کشادہ کرے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مجھے اک آئینہ کب سے دلاسہ دے رہا ہے
کسی دیوار سے تم بھی لپٹ کر دیکھ لینا
۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر ہیں اور ہم جھک کر کھڑے ہیں
ہمارا عجز مغروری ہماری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مٹی تو زرخیز ہے میری ہو سکتا ہے پیڑ اگیں
ہوسکتا ہے گھاس اگے اورقسمت میں پامالی ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ساعت خوش کن یہ دل آویز مناظر
روکے تری ہنستی ہوئی تصویر سے میں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خواب ہے تو خواب کی تصویر کھینچ لے
سچ مچ ملے تو کوئی نشانی وصول کر
ــــــــــــ
وہ خواب جونہی ٹوٹا مری آنکھ کھل گئی
اٹھا نہ جا رہا تھا مگر صبح دم اٹھا
ـــــــــــ
یہ چوڑیوں کی طرح ٹوٹتے ہوئے مرے خواب
یہ میرا دل یہ کلائی مروڑتا ہوا دل
ــــــــــــ
میں رتجگوں سے بناتا ہوں نیند کا ریشم
تو اپنے مرمریں ہاتھوں سے خواب کات مرے
ــــــــــ
نہ کوئی خواب آنکھوں میں نہ اب ان میں روانی
یہ ٹھہراؤ ہے عارض اس میں رہنا خود کشی ہے
ـــــــــــ 

کل ایک دوست اچانک ہی گر گیا ورنہ
کوئی نظر سے گرے تو میں تھام لیتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔

نہ لے پڑوس میں گھر کچھ نہیں ہے دینے کو
دعا، نہ دل، نہ خبر، کچھ نہیں ہے دینے کو 

ہمارے پاس اداسی ہے، رنج ہے، دکھ ہیں
ہمارے پاس مگر، کچھ نہیں ہے دینے کو 

ہمیں پکار کے شرمندہ کر رہے ہیں لوگ
سوائے گردِ سفر کچھ نہیں ہے دینے کو 

کھڑا نہ رکھو فقیروں کو سامنے گھر کے
جواب دے دو اگر، کچھ نہیں ہے دینے کو 

ہمارا پھل ہے نہ سایہ ہے ہاتھ خالی ہیں
پرندگانِ شجر! کچھ نہیں ہے دینے کو 

اسے کہو کہ مرا اعتماد مت مانگے
نہیں ہے بارِ دگر کچھ نہیں ہے دینے کو 

وہ ٹوٹنے سے بچائے مرا بھرم عارض
دلاسہ دے دے اگر کچھ نہیں ہے دینے کو

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !