دل کی خلش… یہ وہ بےنام سا درد ہے جو نہ چیخ اٹھتا ہے، نہ زخم دکھاتا ہے، مگر انسان کے اندر کہیں گہرا اتر کر اسے بےحد اداس رکھتا ہے۔
یہ خلش کبھی رشتوں کی ناقدری سے جنم لیتی ہے، کبھی کسی کھوئے ہوئے بھروسے سے، اور کبھی اپنے ہی الفاظ پر لگے تالوں سے۔
انسان بات کرنا چاہتا ہے، مگر زبان خاموش رہتی ہے…
اور دل شور مچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: "یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
(سورۃ الرعد: 28)
دل کی خلش کوئی عام احساس نہیں، یہ دراصل انسان کی روح کی ایک خاموش گواہی ہے کہ کہیں کچھ درست نہیں ہو رہا۔
یہ اللہ کی طرف سے ایک خاموش تنبیہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے رب سے دور جا رہے ہیں، یا انسانوں سے ایسی توقعات وابستہ کر رہے ہیں جو صرف اللہ سے رکھنی چاہئیں۔
آج کے دور میں ہم ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، خوش نظر آتے ہیں… مگر دل کے اندر ایسی ادھوری خواہشیں، ایسے ٹوٹے سوال چھپائے بیٹھے ہیں جن کا جواب شاید صرف سجدوں میں مل سکتا ہے۔ 🤲
بقول ساغر صدیقی:
چلو اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
کیا وجہ ہے کہ دل بھر جاتا ہے مگر آنکھ نہیں روتی؟
کیونکہ بعض اوقات آنسو آنکھوں تک آنے سے پہلے ہی روح میں چھپ جاتے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ ہونٹ خاموش رہتے ہیں مگر اندر سے احتجاج جاری رہتا ہے؟
کیونکہ اصل زبان دل سمجھتا ہے، دنیا نہیں۔ 💫
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: "اور بے شک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو کچھ اس کا نفس وسوسہ ڈالتا ہے، ہم اسے جانتے ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔"
(سورۃ ق: 16)
یہ خلش کبھی دعا کے قریب لے آتی ہے، اور کبھی بےحسی کے اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اپنی تکلیف کو کس دروازے پر لے جاتے ہیں—
لوگوں کے در پر یا اللہ کے حضور۔
بقول احمد فراز:
ہم کو اُن سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
کوئی تعلق، کوئی شخص، کوئی دنیاوی سہارا اس درد کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔ صرف وہ رب سمجھتا ہے جس نے انسان کی رگوں میں احساس رکھا ہے۔ 💗
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: "پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔"
(سورۃ الشرح: 5-6)
اپنا درد لفظوں میں نہیں تو سجدوں میں ضرور بیان کریں…
کیونکہ جب دل اللہ کے حضور جھک جاتا ہے، تو انسان کے اندر ایک ایسا سکون پیدا ہوتا ہے جو دنیا کی کوئی چیز نہیں دے سکتی۔ 🌅
بقول جون ایلیا:
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا، اور ملال بھی نہیں
دل کی خلش دراصل روح کی ایک خاموش پکار ہے—
اور اگر یہ پکار اللہ تک پہنچ جائے، تو سکون آہستہ آہستہ دل میں اترنے لگتا ہے۔
