پڑوس میں صوفی(فسانہ)۔۔۔۔۔ لہر نیازی

 میرو نے سر پر سے پگڑی اتار پھینکی اور بولا، "خدا کو پانے کے جنون میں انسانوں سے کنارہ کش ہو جانا یہ کہاں کا صوفی ازم ہے۔ یہ تو بس خود غرضی ہے۔" عادل شاہ نے میرو کو صوفی کے معنی سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، "میرو تم اتنا نہیں جانتے صوفی کرم دین جی کو۔ ان کا ایک ایک منٹ بہت قیمتی ہے۔ آپ بہت کم لوگوں سے ملتے ہیں۔ ہر وقت لکھتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کے چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔" میرو اپنی بیٹی کی تکلیف کی شدت بتانے کی کوشش کر رہا تھا اور عادل شاہ صوفی کے معمولات بتاۓ جارہا تھا۔ میرو نے مایوس ہو کر کہا، "کتابیں پڑھنے سے باطن تھوڑا ہی اجلا ہوتا ہے۔ حقیقی خوشی تو کسی درد مند کے کام آنے سے حاصل ہوتی ہے۔" رات کافی ہو چکی تھی۔ میرو مایوسی ہو کر بڑ بڑاتا ہوا واپس چلا آیا۔ میرو کی چھوٹی بیٹی سلمیٰ درد سے کراہ رہی تھی۔ اس کی داڑھ میں شدید درد تھا۔ اس درد کو سارے گھر نے محسوس کیا۔ حتیٰ کہ اس کی پالتو بلی بھی آرام سے نہ بیٹھ سکی۔ انسانیت کا درد دل میں ہو تو انسان تو انسان پالتو جانور بھی تڑپتا ہے۔ میرو کو معلوم تھا کہ اس کے پڑوس میں جو کرم دین صوفی رہتا ہے اس کے پاس داڑھ کے درد کا دم ہے۔ وہ جب دم کرتا ہے تو درد چلا جاتا ہے۔ بیوی کے اصرار کرنے پر میرو دوبارہ صوفی جی کے دروازے پر آ کر دستک دینے لگتا ہے تو کافی دیر تک کوئی باہر نہیں نکلتا۔ اچھی خاصی آوازیں لگانے پر صوفی کرم دین کا ایک ملازم باہر آ کر کہتا ہے، "مالک نے اسے نیند سے جگانے سے سختی سے منع کر رکھا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو۔"
رات جیسے تیسے درد سے کراتے ہوئے گزر ہی گئی۔ سب کی آنکھیں رات بھر جاگتے رہنے سے سرخ ہو چکی تھیں۔
بیٹی کی وجہ سے میرو آج ٹھیلا لگانے بازار نہیں گیا تھا۔ اس کے سبزی کی ٹوکریاں گھر ہی میں پڑی رہ گئیں۔ کیونکہ اسے بیٹی کا درد کہیں چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ بیٹی تھی کہ دن چڑھے تک ایک پل بھی سکون سے نہ رہ سکی۔
میروں کی بیوی نے چائے کے لیے پڑا ہوا دودھ ابال کر چینی ڈالی اور بیٹی کو پلانے کی کوشش کی۔ رات کی بھوکی پیاسی معصوم سلمیٰ ایک گھونٹ تک نہ پی سکی۔ کیونکہ جب بھی وہ منہ ہلاتی درد کی ٹیسیں اٹھنے لگتیں۔ بیٹی کی تکلیف دے کر بالاخر میرو نے اپنی جیب میں بڑے چند روپے نکال کر اپنی بیوی کو دکھاتے ہوئے بولا، "یہ چند روپے ہیں, جن سے میں کوئی تازہ پل خریدتا اور آج کی دہاڑی لگاتا۔ مگر ان روپوں سے میں اپنی ننھی کے لیے دوا لینے جاتا ہوں تم اس کا خیال رکھنا۔" ماں نے اپنی بیٹی کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہوئے کہا، "ہاں اب جاؤ۔ گلی کے نکڑ پر سٹور کھل گیا ہوگا۔ جلدی دوا لے کر آؤ، میری بیٹی کا برا حال ہو رہا ہے۔" میرو گھر کے لکڑی والے ٹوٹے ہوئے دروازے کو آرام سے کھولتا ہے اور گلی میں نکل جاتا ہے۔ راستے میں صوفی کا ملازم عادل شاہ مل جاتا ہے۔ میرو نے اس سے صوفی کرم دین کے بارے میں پوچھا تو وہ بولا، "صوفی صاحب اس وقت اٹھ کر تلاوت قران پاک کرتے ہیں۔ پھر وظائف کرتے ہیں۔ اس کے بعد جا کے کہیں وہ اپنے حجرے میں آتے ہیں اور لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں۔" میرو اپنی مٹھی میں پکڑے ہوئے روپوں کو دیکھ کر عادل شاہ سے کہتا ہے، "کیا اس وقت آپ صوفی جی کو میرا پیغام پہنچا سکتے ہیں؟" عادل شاہ کچھ سوچ کر بولا، "مجھے نہیں لگتا کہ اگر آپ کا پیغام میں پہنچا بھی دوں تو صوفی صاحب آپ کو وقت دیں۔" میرو اصرار کرنے لگتا ہے تو عادل شاہ کہتا ہے، "چلو آؤ میرے ساتھ، کہنے کو تو میں صوفی جی سے کہہ دوں گا، آگے تمھاری قسمت۔" دن کافی چڑھ آیا ہوتا ہے۔ گلی میں کوے ادھر ادھر چیزوں پر جھپٹتے پھرتے ہیں اور کہیں کتے گندگی پر منہ مارتے نظر آتے ہیں۔ ہر ذی روح اپنے معمولات میں مصروف ہوتا ہے۔ دونوں صوفی کے حجرے میں پہنچتے ہیں۔ میر وہیں ٹھہر جاتا ہے اور عادل شاہ اندر چلا جاتا ہے۔ حجرے میں دو الماریاں لگی ہوتی ہیں جن پر تصوف کی موٹی موٹی کتابیں اس طرح سے سجی ہوتی ہیں جیسے کسی نے آج تک ان کو ہاتھ تک نہ لگایا ہو۔ میرو موٹی موٹی کتابیں دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے کہ جانے کیسے صوفی صاحب ان کتابوں کو پڑھتے ہوں گے۔ کافی دیر بعد عادل شاہ واپس آتا ہے اور میرے سے کہتا ہے، "صوفی جی کو میں نے تمہاری بچی کی داڑھ کے درد کا بتایا تو صوفی جی نے کہا کہ کچھ دیر ٹھہر جاؤ میں اپنا وظیفہ مکمل کر لوں تو بچی کو لے آنا میں دم کر دوں گا۔" میرو نے مٹھی میں دبائی ہوئی رقم کو جیب میں ڈالا اور خوش ہو کر گھر کی طرف پلٹا۔ گھر جا کر اپنی بیوی کو بتایا کہ صوفی جی دم کرنے کو تیار ہو گئے ہیں۔ تو بیوی نے جھٹ پٹ بیٹی کو کندھے پر اٹھایا اور دونوں میاں بیوی دوڑے دوڑے صوفی کی حجرے میں پہنچے۔ عادل شاہ نے دونوں کو کچھ دیر بیٹھنے کو کہا۔ سلمیٰ کی داڑھ میں درد اتنا شدید تھا کہ اس کا منہ تک پھول گیا تھا۔ درد سے بچی کی بے اختیار چیخیں نکلتیں تو ماں اس کے منہ میں کپڑا دبا دیتی تاکہ اونچی آواز حجرے سے باہر صوفی جی تک نہ پہنچے۔ حجرے کی دیواروں پر مختلف مزارات کی تصاویر دیکھ کر میروں کی بیوی بہت متاثر ہوئی۔ کافی دیر گزر جانے کے بعد عادل شاہ نے آ کر بتایا کہ صوفی جی وظیفہ مکمل کرنے کے بعد اب ناشتہ کر رہے ہیں اور ناشتہ کر کے بس آتے ہی ہوں گے۔" ابھی عادل شاہ یہی باتیں کر ہی رہا تھا کہ صوفی جی سفید جبہ پہنے سر پر دستار رکھے حجرے میں داخل ہوئے۔ دونوں میاں بیوی تعظیما اٹھ کھڑے ہوئے۔ بچی نے صوفی جی کو دیکھا تو وہ سہم گئی۔ صوفی جی آنکھیں بند کر کے انگلیوں پر کچھ پڑھنے لگا۔ اگلے ہی لمحے اس نے سلمیٰ پر پھونک مارتے ہوئے کہا، "جاؤ اب اس کی داڑھ میں درد نہیں ہوگا۔" دونوں میاں بیوی اٹھنے لگے تو اس کی بیوی نے بے اختیار کر ڈالا، "صوفی جی اگر آپ رات کو یہی دم کر دیتے تو ساری رات میری بیٹی تڑپتی نہ رہتی۔" صوفی جی کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ اس نے تیوری چڑھاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا، "بی بی مجھے وظائف کرنا ہوتے ہیں اور یہ دیکھ رہی ہو موٹی موٹی کتابیں۔ میں یہ بھی پڑھتا ہوں۔ اگر ہر آتے جاتے کو میں وقت دینے لگوں تو میرے یہ وظائف اور میرا یہ مطالعہ رہ جائے گا۔" میرو جی حضور کہتا، دعائیں دیتا باہر کو پلٹا۔ سلمیٰ کی داڑھ کا درد اب جاتا رہا تھا۔ گھر آتے ہی وہ گہری نیند سو گئی۔ میرو اور اس کی بیوی بیٹی کو پر سکون نیند سوتا دیکھ کر رب کا شکر ادا کرنے لگے۔ میرو کی بیوی سوئی ہوئی بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے حسرت سے بولی، "صوفی جی اگر رات کو ہی دم کر دیتے تو اس معصوم کو رات بھر تڑپنا نہ پڑتا۔"
میرو نے اٹھتے ہوئے بیٹی کو جی بھر کر دیکھا اور ریڑھی لگانے بازار کو چل پڑا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !